World
برازیل کے منشیات فروشوں کی بولیویا میں پیش قدمی اور خوف
برازیل کے خطرناک منشیات فروش گروہوں کی جانب سے بولیویا کے ایک دور افتادہ گاؤں میں دراندازی کی کوششوں کے بعد مقامی آبادی شدید خوف و ہراس کا شکار ہے۔ یہ گروہ اس خطے میں اسمگلنگ کے منافع بخش راستوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے باہم برسرپیکار ہیں۔
لاطینی امریکہ کے سرحدی علاقوں میں منشیات کی اسمگلنگ کے تنازعات نے ایک بار پھر سنگین صورتحال اختیار کر لی ہے۔ برازیل کے طاقتور اور بے رحم منشیات فروش گروہوں نے بولیویا کے ایک دور افتادہ اور پرامن گاؤں کی طرف اپنی پیش قدمی تیز کر دی ہے، جس کے بعد وہاں کے مقامی باسیوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، یہ تمام کشیدگی غیر قانونی اسمگلنگ کے انتہائی منافع بخش راستوں پر اجارہ داری قائم کرنے کی سفاکانہ جنگ کا نتیجہ ہے۔
بولیویا کا یہ ریموٹ گاؤں طویل عرصے سے پرامن سمجھا جاتا تھا، لیکن حالیہ ہفتوں کے دوران یہاں مشکوک افراد کی نقل و حرکت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برازیل کے یہ گینگ مختلف سرحدی راستوں کا استعمال کرتے ہوئے منشیات کی ترسیل کو یقینی بنانا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے وہ مقامی آبادی کو بھی ہراساں کر رہے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ خود کو اس نئی اور خطرناک صورتحال میں بالکل غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ ریاستی رِٹ کمزور ہونے کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔
بین الاقوامی سکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس خطے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری اور فیصلہ کن کارروائی نہ کی تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ منشیات فروشوں کے باہمی تصادم سے نہ صرف مقامی امن تباہ ہو رہا ہے بلکہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے خدشات بھی کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ مقامی حکام پر شدید دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ سرحدی سکیورٹی کو مزید سخت کریں اور غنڈہ عناصر کے خلاف سخت ترین آپریشن شروع کریں تاکہ عام شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔