World
جنوبی کوریا اور امریکہ کا 72 سالہ اتحاد خطرے میں، ٹرمپ کے فیصلوں پر تشویش
امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی مشقوں میں کمی کے احکامات نے سئول میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس صورتحال نے دونوں ممالک کے درمیان بہتر دہائی پرانے سکیورٹی اتحاد پر نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
واشنگٹن اور سئول کے درمیان دہائیوں پر محیط دوطرفہ تعلقات میں اس وقت شدید تناؤ پیدا ہو گیا ہے جب امریکہ کے سابق اور ممکنہ آئندہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کے تحت خطے میں فوجی مشقوں کو محدود کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس اچانک تبدیلی نے جنوبی کوریا کے سیاسی اور دفاعی حلقوں میں صف ماتم بچھا دی ہے کیونکہ سئول کو اپنی قومی سلامتی کے لیے امریکی سکیورٹی ضمانتوں پر گہرا انحصار رہا ہے۔ گذشتہ بہتر سال سے دونوں ممالک کے مابین قائم یہ دفاعی شراکت داری خطے میں امن اور استحکام کی ضمانت سمجھی جاتی تھی، مگر حالیہ پالیسیوں نے اس اتحاد کی پائیداری پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دفاعی اخراجات میں کمی اور اتحادی ممالک پر زیادہ مالی بوجھ ڈالنے کی پالیسی نے جنوبی کوریا کے حکام کو گہری سوچ میں ڈال دیا ہے۔ سئول میں یہ خدشات تیزی سے سر اٹھا رہے ہیں کہ اگر امریکہ نے باقاعدہ فوجی مشقوں کا سلسلہ کم یا بند کر دیا تو خطے میں جارحانہ عزائم رکھنے والے عناصر بالخصوص شمالی کوریا کی حوصلہ افزائی ہو سکتی ہے۔ دونوں دوست ممالک کے مابین اعتماد کا یہ فقدان اس وقت سامنے آیا ہے جب کوریائی شبه جزیرے میں پہلے ہی کشیدگی عروج پر ہے اور کسی بھی قسم کی دفاعی کمزوری کے خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب، جنوبی کوریا کی حکومت اندرونی طور پر اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کر رہی ہے۔ ایک طرف جہاں واشنگٹن کے ساتھ سفارتی سطح پر رابطے تیز کر دیے گئے ہیں تاکہ اس 72 سالہ تاریخی اتحاد کو بچایا جا سکے، وہیں دوسری طرف ملکی دفاع کو خود کفیل بنانے کی تجاویز پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان دفاعی تعاون کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہ ہوا تو ایشیا پیسیفک کے خطے میں طاقت کا توازن یکسر تبدیل ہو سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی سیاست پر بھی گہرے مرتب ہوں گے۔