LIVE
Loading Breaking News...

امریکی فوجی اخبار کے پبلشر کا حکومتی دباؤ پر استعفیٰ

News Image
امریکی فوجی اخبار 'اسٹارز اینڈ اسٹرائپس' کے دیرینہ پبلشر نے حکومتی مداخلت اور ادارتی کنٹرول کے دباؤ کے باعث اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ استعفیٰ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اخبار کے اندرونی معاملات پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوششوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
امریکی فوجی اخبار 'اسٹارز اینڈ اسٹرائپس' کے طویل عرصے سے خدمات انجام دینے والے پبلشر نے حکومت کے ساتھ پالیسی اور ادارتی معاملات پر شدید اختلافات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اس معروف فوجی اخبار پر ادارتی کنٹرول حاصل کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا تھا، جس پر میڈیا اور صحافتی حلقوں میں گہری تشویش پائی جاتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، حکومتی حکام کی جانب سے اخبار کے اندرونی امور اور خبروں کی اشاعت میں مداخلت کی کوشش کی جا رہی تھی، جسے پبلشر نے صحافتی آزادی اور ادارتی خودمختاری کے منافی قرار دیا۔ اس تنازع کے بعد پبلشر نے اپنے عہدے پر مزید کام جاری رکھنے سے معذوری ظاہر کی اور اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ امریکی فوجی صحافت کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سرکاری اداروں اور آزاد میڈیا کے درمیان محاذ آرائی کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ 'اسٹارز اینڈ اسٹرائپس' ایک ایسا اخبار ہے جو طویل عرصے سے دنیا بھر میں تعینات امریکی فوجیوں کے لیے خبروں اور معلومات کا ایک اہم ترین ذریعہ رہا ہے اور اس کی پالیسی ہمیشہ غیر جانبدارانہ صحافت پر مبنی رہی ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں حکومتی سطح پر اس ادارے کی پالیسیوں کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی تھیں، جس کی وجہ سے انتظامی اور ادارتی سطح پر شدید تناؤ پیدا ہو گیا تھا۔ اس استعفیٰ کے بعد اب یہ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں اس فوجی اخبار کی آزادی کو مزید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں اور حکومت ادارے پر مکمل قابو پانے کی کوشش کرے گی۔