Business
پاکستان کی امریکہ سے 10 ارب ڈالر فیسلٹی کی درخواست، اہم تفصیلات
پاکستان نے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی معاشی استحکام کی فیسلٹی کے حصول کے لیے باضابطہ درخواست جمع کرا دی ہے۔ وزیر خزانہ نے واضح کیا ہے کہ یہ فیسلٹی روایتی قرض نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں اہم جیو پولیٹیکل عوامل کارفرما ہیں۔
اسلام آباد: پاکستان کی جانب سے امریکہ سے دس ارب ڈالر کی مالیاتی اور معاشی استحکام کی فیسلٹی کے حصول کے لیے تیاریاں اور کوششیں آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ ملکی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اس سلسلے میں امریکی محکمہ خزانہ کو باضابطہ طور پر اپنی بڈ یا درخواست جمع کرا دی ہے۔ معاشی ماہرین اور حکومتیحلقوں کے مطابق اس اہم قدم کا بنیادی مقصد ملک میں غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنا اور طویل مدتی اقتصادی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔
حکومتی ذرائع اور وزارت خزانہ کے ترجمانوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ یہ دس ارب ڈالر کا پیکج یا فیسلٹی کوئی روایتی قرض ہے۔ وزیر خزانہ نے اس امر پر روشنی ڈالی ہے کہ اس فیسلٹی کے پس منظر میں خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور دونوں ممالک کے مابین اسٹریٹجک تعلقات کو مزید فروغ دینا شامل ہے۔ امریکہ کے ساتھ اس مالیاتی تعاون کو دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی شراکت داری کی ایک نئی کڑی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس معاملے پر رواں سال ستمبر تک اہم پیش رفت سامنے آ سکتی ہے۔ پاکستانی حکام امریکی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ اس فیسلٹی کے تمام قانونی اور مالیاتی خدوخال کو حتمی شکل دی جا سکے۔ اس پیش رفت سے پاکستان کے مالیاتی بازاروں پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، کیونکہ یہ اقدام ملک کی معاشی سمت کو درست کرنے اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔