LIVE
Loading Breaking News...

زیو اور این ویڈیا کا مشترکہ اے آئی فائبر نیٹ ورک پروجیکٹ

News Image
زیو اور این ویڈیا نے مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے ایک طاقتور طویل فاصلے کا فائبر نیٹ ورک بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد دنیا بھر میں پھیلے ہوئے اے آئی سسٹمز کو تیز رفتار اور محفوظ رابطے فراہم کرنا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی دو بڑی کمپنیوں زیو (Zayo) اور این ویڈیا (NVIDIA) نے اشتراک کرتے ہوئے تقسیم شدہ مصنوعی ذہانت (Distributed AI) کے لیے ایک جدید اور طویل فاصلے کا فائبر بیک بون نیٹ ورک تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے اقدام کا بنیادی مقصد جدید ترین اے آئی سسٹمز اور ڈیٹا سینٹرز کے درمیان ڈیٹا کی نقل و حرکت کو انتہائی تیز رفتار اور محفوظ بنانا ہے تاکہ مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت اور کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکے۔ اس منصوبے کے تحت این ویڈیا کے جدید ہارڈ ویئر اور زیو کے وسیع فائبر نیٹ ورک کو باہم مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ طویل فاصلے پر پھیلے ہوئے ڈیٹا سینٹرز بغیر کسی رکاوٹ کے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے رہیں۔ صنعت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے، روایتی نیٹ ورکس کے لیے اتنی بڑی مقدار میں ڈیٹا کو ہینڈل کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ نیا بیک بون نیٹ ورک اسی پس منظر میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا جو مستقبل کے اے آئی تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم، اس منصوبے اور مجموعی طور پر اے آئی انفراسٹرکچر کی توسیع کے حوالے سے کچھ چیلنجز بھی سامنے آرہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ٹیلی کام کمپنیاں اے آئی ڈیٹا سینٹرز کے لیے فائبر بچھانے میں بڑے مالیاتی خطرات مول لے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، بعض ہائپر اسکیلرز کی جانب سے دیہی علاقوں میں فائبر کے راستے بلاک کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جس سے دیہی کمیونٹیز کو تیز رفتار انٹرنیٹ اور اے آئی کے فوائد سے محروم رکھنے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ان تمام چیلنجز کے باوجود، زیو اور این ویڈیا کا یہ اشتراک مصنوعی ذہانت کے شعبے میں انفراسٹرکچر کی ترقی کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان رکاوٹوں پر قابو پا لیا گیا تو یہ نیٹ ورک آنے والے برسوں میں عالمی سطح پر اے آئی ٹیکنالوجی کی رسائی اور رفتار کو یکسر بدل کر رکھ دے گا، جس سے دنیا بھر کے کاروبار اور تحقیقی ادارے یکساں طور پر مستفید ہوں گے۔