LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران معاہدہ: تیل کی برآمدات میں تین گنا اضافہ

News Image
کےپلر کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے معاہدے کے ساٹھ دنوں کے دوران خلیجی خطے سے تقریبا تین سو چوہتر ملین بیرل تیل نکالا گیا۔ اس عرصے کے دوران تیل کے بہاؤ میں غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی جو کہ عالمی توانائی کی منڈیوں میں اہم پیشرفت ہے۔
بین الاقوامی توانائی کے امور پر نظر رکھنے والے ادارے کےپلر کے تازہ ترین اعداد و شمار سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کی میعاد ختم ہونے سے ٹھیک پہلے خلیجی خطے سے تیل کی ترسیل میں تین گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس ساٹھ روزہ کھڑکی کے دوران تقریبا تین سو چوہتر ملین بیرل تیل خلیج سے باہر نکالا گیا جو کہ ایک بہت بڑا حجم ہے۔ توانائی کے ماہرین اسے ایک اہم معاشی اور سیاسی موڑ قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس دوران عالمی منڈی میں تیل کی رسد پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس دوران تیل کی ترسیل میں اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اس عارضی معاہدے کی ڈیڈ لائن کا قریب آنا تھا۔ متعلقہ فریقین اس وقت سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے تھے جب تک یہ مفاہمت کارآمد تھی۔ کےپلر کے ڈیٹا نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کس طرح سیاسی اور سفارتی اوقات کار کے دوران تجارتی سرگرمیاں راتوں رات بدل جاتی ہیں اور اس سے براہ راست اثرات عالمی منڈیوں پر پڑتے ہیں۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر توانائی کے تاجروں اور مبصرین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ خلیج کے خطے سے اتنی بڑی مقدار میں تیل کی روانگی نہ صرف سپلائی چین کے دباؤ کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح سیاسی فیصلے تجارتی رجحانات کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس بڑھتی ہوئی ترسیل کے عالمی تیل کی قیمتوں اور ذخائر پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا اندازہ لگانے کے لیے ماہرین مزید اعداد و شمار کا انتظار کر رہے ہیں۔