World
سوڈان کردوفان بحران: دو لاکھ افراد بے گھر، اقوام متحدہ کی وارننگ
سوڈان کے کردوفان کے علاقے میں جاری شدید لڑائی کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد افراد نئے سرے سے بے گھر ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ العبید میں بجلی اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔
سوڈان کے خطے کردوفان میں جاری شدید اور تباہ کن لڑائی کے نتیجے میں دو لاکھ سے زائد افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ صورتحال انتہائی تشویشناک ہوتی جا رہی ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ جھڑپوں کا یہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں تیز ہوا ہے جب عام شہریوں کی زندگی پہلے ہی انتہائی کٹھن مرحلے سے گزر رہی ہے اور انہیں خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے اداروں نے اس بات کی شدید تنبیہ جاری کی ہے کہ کردوفان کے اہم شہر العبید میں بجلی اور پانی کے بنیادی ڈھانچے کو براہ راست حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پانی اور بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے عام شہریوں کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ اسپتالوں اور طبی مراکز کا نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے۔ بین الاقوامی برادری نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر جھڑپیں بند کریں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی قافلوں کو محفوظ راستہ فراہم کریں۔
اس خطے میں جاری کشیدگی نے پہلے سے موجود پناہ گزینوں کے بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے یا عارضی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے۔ امدادی تنظیموں نے عالمی عطیہ دہندگان سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر مالی امداد فراہم کریں تاکہ اس انسانی المیے سے نمٹا جا سکے اور متاثرہ عوام کو بروقت ریلیف مل سکے۔