LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا قومی قرضہ چالیس ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

News Image
امریکہ کا مجموعی قومی قرضہ پہلی بار تاریخ کی بلند ترین سطح یعنی چالیس ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔ یہ تشویشناک اضافہ ڈونلڈ ٹرم کے پہلے دورِ صدارت سے لے کر جوبائیڈن انتظامیہ کے دوران گزشتہ ایک دہائی میں دگنا ہوا ہے۔
واشنگٹن (نیکسورا نیوز اردو) امریکی معیشت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تشویشناک پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں ملک کا مجموعی قومی قرضہ تاریخ میں پہلی بار چالیس ٹریلین ڈالر کی ریکارڈ سطح سے تجاوز کر گیا ہے۔ اقتصادی ماہرین اور مالیاتی اداروں کی جانب سے اس سنگِ میل پر گہری تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ یہ اضافہ امریکی ملکی معیشت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ملک پر قرضوں کے اس بڑھتے ہوئے بوجھ نے مالیاتی منڈیوں میں بھی ہلچل مچا دی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، امریکی قومی قرضے کی اس حیرت انگیز مقدار میں پچھلے دس سال کے دوران ہوشربا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت سے شروع ہونے والا یہ قرضوں کا سفر جوبائیڈن انتظامیہ کے دورِ حکومت تک جاری رہا اور اس دوران مجموعی قرضہ اپنی اصل مالیت سے دگنا ہو چکا ہے۔ حکومتوں کی جانب سے مسلسل جاری کردہ اخراجات، کوروناوبا کے دوران معاشی امدادی پیکیجز اور دفاعی بجٹ میں اضافے کو اس تیزی کی بنیادی وجوہات قرار دیا جا رہا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بڑی معیشتوں کے لیے قرض لینا کوئی انوکھی بات نہیں ہے، تاہم چالیس ٹریلین ڈالر کا یہ ہندسہ امریکی مالیاتی استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ بڑھتے ہوئے سود کی ادائیگی کے اخراجات اب امریکی وفاقی بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ نگل رہے ہیں، جس کی وجہ سے صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے جیسے اہم عوامی شعبوں کے لیے فنڈز کی دستیابی متاثر ہو رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر شدید بحث و تمحیص متوقع ہے۔ مستقبل کے حوالے سے مالیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی حکومت نے قرضوں کے اس بے قابو اضافے کو روکنے کے لیے سنجیدہ اور طویل المدتی اصلاحات نافذ نہ کیں، تو اس کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔ عالمی سطح پر مہنگائی، شرح سود میں اتار چڑھاؤ اور ڈالر کی قدر کے حوالے سے بھی اس ریکارڈ قرضے کے منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔