World
لبنان کا سابق شامی جنرل کو دمشق کے حوالے کرنے کا فیصلہ
لبنان نے گرفتار ہونے والے ایک سابق شامی آرمی جنرل کو دمشق حکام کے حوالے کر دیا ہے۔ بشار الاسد کی حکومت گرنے کے بعد کسی شامی فوجی افسر کی یہ پہلی حوالگی ہے۔
لبنان نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سابق شامی فوج کے ایک جنرل کو دمشق کے حکام کے حوالے کر دیا ہے جن کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا تھا۔ یہ منتقلی دونوں ممالک کے درمیان موجودہ سیاسی اور سلامتی کے تناظر میں ایک بڑا واقعہ قرار دی جا رہی ہے کیونکہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد کسی بھی شامی فوجی افسر کو لبنان سے واپس شام بھیجنے کا یہ پہلا باضابطہ واقعہ ہے۔
یاد رہے کہ جب شام میں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تھا تو اس دوران متعدد سرکاری عہدیدار، سیاستدان اور فوجی افسران جان بچا کر یا حالات کے پیش نظر پڑوسی ملک لبنان فرار ہو گئے تھے۔ ان فرار ہونے والے شخصیات میں یہ شامی فوجی جنرل بھی شامل تھے جنہوں نے لبنان میں پناہ لینے کی کوشش کی تھی تاہم قانونی کارروائی اور گرفتاری کے وارنٹ موصول ہونے کے بعد انہیں اب دمشق کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی اور علاقائی مبصرین اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی حرکیات کے بعد ممالک کے درمیان قانونی اور سکیورٹی تعاون کے معاملات میں کیا تبدیلیاں آ رہی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آئیں گی کہ دمشق منتقل کیے جانے والے اس جنرل کے خلاف آگے کس نوعیت کی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔