LIVE
Loading Breaking News...

بحیرہ احمر حوثی حملہ: زخمی پاکستانی ملاح وطن واپس پہنچ گئے

News Image
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے تصدیق کی ہے کہ بحیرہ احمر میں حوثی حملے کے دوران زخمی ہونے والے چھ پاکستانی ملاح پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔ اس حملے میں جان بحق ہونے والے دو پاکستانی ملاحوں کی میتیں بھی واپس لائی گئی ہیں۔
نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں یمن کے حوثی باغیوں کے حملے میں زخمی ہونے والے چھ پاکستانی ملاح بخیر و عافیت اپنے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ رواں ماہ کے آغاز میں پیش آنے والے اس واقعے میں تنزانیہ کے پرچم بردار بحری جہاز 'تہامہ' کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں جہاز کے عملے کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ اس حملے کے فوراً بعد وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیانات میں بتایا گیا تھا کہ اس المناک واقعے میں تین پاکستانی شہری جاں بحق اور دیگر زخمی ہوئے تھے۔ جمعرات کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں نائب وزیر اعظم نے بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والے چھ پاکستانی ملاح اب اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں جبکہ اس حملے میں جان کی بازی ہارنے والے دو پاکستانی ملاحوں کی میتیں بھی قانونی اور سفارتی کارروائی کے بعد کامیابی کے ساتھ پاکستان منتقل کر دی گئی ہیں۔ انہوں نے مشکل وقت میں بیرون ملک پاکستانیوں کی مدد کرنے والے اداروں کی خدمات کو سراہا۔ وزیر خارجہ نے جدہ میں پاکستان کے قونصل جنرل اور ریاض میں پاکستانی سفارت خانے کے کردار کی پرزور تحسین کی جنہوں نے یمن میں باضابطہ سفارتی مشن نہ ہونے کے باوجود متاثرہ ملاحوں کی واپسی اور میتوں کی وطن واپسی کے تمام اُمور کو احسن طریقے سے نبھایا۔ اس کے علاوہ انہوں نے وزارت خارجہ سعودی عرب کی جانب سے زخمیوں کو فراہم کی جانے والی طبی امداد اور جدہ میں کیے جانے والے انتظامات پر سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارے فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی کی کوششوں کو بھی سراہا۔ اسحاق ڈار نے اس حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ سمندری سفر کرنے والے تمام افراد کی حفاظت اور سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان زخمی ہونے والے ملاحوں اور ان کے سوگوار خاندانوں کو ہر ممکن تعاون اور امداد فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں بحیرہ احمر اور خلیج عمان میں متعدد بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد خطے میں سکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس ہو گئی تھی۔ یمن کے ساحلی محافظوں کے مطابق تنزانیہ کے جہاز پر ہونے والے ابتدائی حملے کے نتیجے میں جہاز میں آگ لگ گئی تھی اور اسے شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس واقعے کے بعد پاکستان نے اپنے سمندری مفادات اور شہریوں کی حفاظت کے حوالے سے سخت مؤقف اپناتے ہوئے کسی بھی جارحانہ اقدام کو ریڈ لائن قرار دیا تھا اور اب تمام متاثرہ افراد کی بحفاظت واپسی کو سفارتی سطح پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔