Business
محمد اورنگزیب کا تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس فارم پر اظہارِ خیال
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تنخواہ دار طبقے کے لیے پیچیدہ اور طویل ٹیکس ریٹرن فارم پر کڑی تنقید کی ہے۔ انہوں نے یہ بات فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہیڈ کوارٹرز میں فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کے لیے موبائل ایپ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ہیڈ کوارٹرز میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تنخواہ دار طبقے کے لیے عائد کردہ پیچیدہ اور طویل ٹیکس ریٹرن فارم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک کے سب سے زیادہ دستاویزی اور باقاعدگی سے ٹیکس دینے والے تنخواہ دار طبقے کے لیے اس طرح کی پیچیدہ فائلنگ کے عمل کی کوئی منطق نہیں بنتی۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس پیچیدہ فارم کو بھرنے میں ایم بی اے کی ڈگری رکھنے والا شخص بھی شدید مشکلات کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ تنخواہ دار افراد کی تقریباً ستر فیصد آمدنی پہلے ہی ٹیکس کٹوتی کے بعد براہ راست ان کے بینک اکاؤنٹس میں جمع ہوتی ہے، جس کی وجہ سے مزید اضافی آمدنی کے ذرائع ثابت کرنے کے لیے اس قدر پیچیدہ عمل کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ تقریب کے دوران ایف بی آر نے چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کی سہولت کے لیے فکسڈ ٹیکس آسان اسکیم کے تحت ایک نئی موبائل ایپلیکیشن کا بھی باضابطہ اجرا کیا۔ اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر، ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑیال اور تاجر برادری کے نمائندے بھی وزیر خزانہ کے ہمراہ موجود تھے۔ 'آسان تاجر' کے نام سے لانچ کی جانے والی اس موبائل ایپ میں اردو زبان میں ایک آسان فارم شامل کیا گیا ہے جسے گوگل پلے اسٹور سے با آسانی ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ اس ایپ کے ذریعے تاجر رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ اپنا ٹیکس بھی باآسانی ادا کر سکیں گے۔ وزیر مملکت بلال اظہر نے بتایا کہ آنے والے دنوں میں اس ایپ کو ایپل کے ایپ اسٹور پر بھی مہیا کر دیا جائے گا جبکہ ستمبر کے پہلے ہفتے تک اس میں پشتو، بلوچی اور سندھی سمیت دیگر علاقائی زبانیں بھی شامل کی جائیں گی۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ نے ملک کے بیرونی مالیاتی استحکام کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور بتایا کہ پاکستان نے روپے کی قدر کو مستحکم کرنے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے باضابطہ طور پر امریکی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلیٹی کے حصول کی درخواست دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد روایتی قرض کا حصول نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت اور بیرونی سکیٹر کے استحکام پر مارکیٹ کا اعتماد بحال کرنا ہے، جبکہ حکومت دو طرفہ قرضوں کی مدت کو بڑھا کر پانچ سے دس سال تک لے جانے کے لیے بھی پرامید ہے۔