LIVE
Loading Breaking News...

پاکستانی نوجوان صالح آصف کی اے آئی کمپنی کی تاریخی کامیابی

News Image
پاکستانی نوجوان صالح آصف کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی 'کرسر' کو اسپیس ایکس نے خرید لیا ہے، جو کہ عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک بڑا سنگ میل ہے۔ اس کامیابی کے پس منظر میں یہ سوال اہم ہے کہ ان طلبا نے کس طرح صنعت کے خالی خلاء کو محسوس کرتے ہوئے بروقت فیصلے کیے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی تاریخ میں ایک اہم ترین پیش رفت کے دوران، خلائی تحقیقاتی ادارے اسپیس ایکس نے مشہور اے آئی کوڈنگ ٹول 'کرسر' تیار کرنے والی کمپنی اینی اسفیئر (Anysphere) کو خرید لیا ہے۔ ساٹھ ارب ڈالر پر محیط یہ تمام اسٹاکس کی تاریخی ڈیل اب تک کی سب سے بڑی اسٹارٹ اپ خریداری قرار دی جا رہی ہے۔ اس انضمام کے ذریعے نئی بننے والی کمپنی 'اسپیس ایکس اے آئی' اب انٹرپرائز مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اوپن اے آئی اور اینتھروپک جیسی بڑی کمپنیوں کی براہ راست حریف بن گئی ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے نمایاں ناموں میں سے ایک پاکستانی نوجوان صالح آصف کا ہے، جو کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اور کرسر کے چار شریک بانیوں میں شامل ہیں۔ صالح آصف نے نکسور کالج سے اے لیولز مکمل کرنے کے بعد بین الاقوامی میتھمیٹیکل اولمپیاڈ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور پھر میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (MIT) میں اسکالرشپ حاصل کی۔ سال 2022 میں صالح آصف اور ان کے یونیورسٹی کے ساتھیوں نے مل کر 'کرسر' کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ اس تاریخی ڈیل کی میڈیا کوریج میں زیادہ تر توجہ مالیاتی اعداد و شمار پر مرکوز ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ سوال بھی انتہائی اہم ہے کہ ان طلبا نے صنعت کے اندر موجود اس خلا کو دوسروں سے پہلے کیسے بھانپ لیا۔ صنعت کے ماہرین کا ماننا ہے کہ سافٹ ویئر بنانا اب نسبتاً سستا، آسان اور تیز ہو چکا ہے، لیکن اصل اہمیت اس فیصلے کی ہے کہ کیا بنایا جائے۔ اینتھروپک کے ماہر بورس چیرنی کے مطابق، آج کے اے آئی ماڈلز وہ کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو روایتی پروڈکٹس صارفین کو کرنے کی اجازت نہیں دیتے، جسے 'پروڈکٹ اوور ہینگ' کہا جاتا ہے۔ جب کلاڈ سوننیٹ 3.5 متعارف کروایا گیا تو اس وقت کی کوڈنگ ٹولز محض جملے مکمل کرتی تھیں، جب کہ اس کے اندر موجود ماڈل اس سے کہیں زیادہ طاقتور تھا اور پوری فائلیں خود لکھ سکتا تھا۔ کرسر کی ٹیم نے روایتی طریقہ کار کے برعکس ماڈل کو براہ راست ورکنگ انوائرمنٹ تک رسائی دی، جس سے اس کی پوشیدہ صلاحیتیں سامنے آئیں اور یہی وہ فیصلہ تھا جس نے کرسر کو اس کی شاندار ترقی کے راستے پر ڈالا۔ سیلیکان ویلی میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ خیالات دولت میں تبدیل ہو جاتے ہیں، لیکن اس کے لیے صرف اچھے آئیڈیاز کافی نہیں ہوتے بلکہ اس کے ساتھ اعلیٰ درجے کی تکنیکی تربیت، قابل ساتھیوں تک رسائی اور بروقت درست فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی ناگزیر ہوتی ہے۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مناسب مواقع اور اعلیٰ تعلیم میسر ہوں تو پاکستانی ٹیلنٹ دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتا ہے۔ اس نوعیت کی کامیابیاں نہ صرف ملک کا نام روشن کرتی ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی نئی راہیں ہموار کرتی ہیں۔