Politics
وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو مذاکرات کی پیشکش
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی مفاہمت ناگزیر ہے۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نے ایک بار پھر سیاسی مفاہمت کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کو مذاکرات کی دعوت دی ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت نازک موڑ سے گزر رہا ہے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔ انہوں نے انگریزی کی مشہور کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'تالی دو ہاتھ سے بجتی ہے' اور حکومت اکیلے تنہا تمام معاملات کو درست سمت میں نہیں لے جا سکتی جب تک کہ قومی سطح پر سیاسی استحکام پیدا نہ کیا جائے۔ وزیراعظم کے اس بیان کو سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے واضح کیا کہ ان کی حکومت ہمیشہ سے جمہوریت، پارلیمانی بالا دستی اور باہمی افہام و تفہیم کی قائل رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاقی حکومت معیشت کی بہتری اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے، تاہم اس عمل میں اپوزیشن کا تعاون بھی ملک اور قوم کے مفاد میں ہوگا۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی محاذ آرائی اور دھرنے کی سیاست سے ملک کو صرف نقصان پہنچا ہے اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاسی رہنما ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر صرف اور صرف پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے سوچیں۔
وفاقی کابینہ کے اراکین نے بھی وزیراعظم کی اس مفاہمانہ سوچ کی بھرپور تائید کی اور اس بات پر زور دیا کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہوں پر بات چیت کے دروازے کھلے رہنے چاہئیں۔ کابینہ کے اجلاس میں شریک وزراء کا ماننا تھا کہ ملک کو مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر چیلنجز سے نکالنے کے لیے سیاسی استحکام بنیادی شرط ہے۔ حکومت کی طرف سے اس مثبت پیشکش کے بعد اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں اس پر کیا ردعمل ظاہر کرتی ہیں اور آیا وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے تیار ہوتی ہیں یا نہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اپوزیشن اس پیشکش کا مثبت جواب دیتی ہے تو آنے والے دنوں میں ملک کا سیاسی ماحول بہتر ہو سکتا ہے۔