Politics
سپریم کورٹ کا عمران خان ہسپتال منتقلی نظرثانی درخواست پر فیصلہ
سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے دائر کی جانے والی نظرثانی درخواست اعتراض لگا کر واپس کر دی ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے اس اقدام سے قانونی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے اور سیاسی ماحول بھی گرم ہو گیا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی جیل سے ہسپتال منتقلی کے عدلتی حکم کے خلاف دائر کردہ نظرثانی درخواست کو تکنیکی اعتراضات کے ساتھ واپس کر دیا ہے۔ یہ ڈویلپمنٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملکی سیاسی منظر نامے میں پہلے ہی شدید تناؤ پایا جا رہا ہے اور عدلیہ کے فیصلوں پر مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ وفاقی حکومت نے سابق وزیر اعظم کی صحت اور سکیورٹی سے متعلق امور کے تناظر میں عدالتِ عظمیٰ سے رجوع کیا تھا اور اس فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کی تھی۔ رجسٹرار آفس سپریم کورٹ کی طرف سے عائد کیے جانے والے اعتراضات کے بعد اس اپیل کو فی الحال آگے نہیں بڑھایا جا سکا، جس نے حکومتی قانونی ٹیم کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس طرح کی نظرثانی درخواستوں کا دائرہ کار محدود ہوتا ہے اور عدالتی ضابطہ کار کی خلاف ورزی کی صورت میں انہیں اعتراض لگا کر واپس کر دیا جاتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے اس پیش رفت پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے جبکہ پارٹی کی طرف سے اپنے قائد کی صحت اور بنیادی حقوق کے حوالے سے تشویش کا اظہار مسلسل جاری ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس قانونی معاملے پر مزید قانونی اور سیاسی گرما گرمی دیکھنے میں آ سکتی ہے کیونکہ عمران خان کی قید اور ان کے علاج معالجے کے معاملات عدالتوں میں زیرِ بحث ہیں۔