LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ کا قومی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گیا

News Image
امریکہ کا مجموعی قومی قرضہ پچھلی ایک دہائی میں دگنا ہو کر چالیس ٹریلین ڈالر کی تاریخی سطح سے تجاوز کر گیا ہے۔ یہ سنگ میل اس وقت عبور ہوا جب تیس سالہ بانڈز کی شرح سود میں تقریبا بیس سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
واشنگٹن (نیکسو را نیوز اردو) عالمی معیشت کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور تشویشناک پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکہ کا مجموعی قومی قرضہ تاریخ میں پہلی بار چالیس ٹریلین ڈالر کی حد سے تجاوز کر گیا ہے۔ یہ سنگ میل ایک ایسے وقت میں عبور ہوا ہے جب ملک کے مالیاتی نظام میں قرضوں کے بوجھ میں تیز رفتار اضافے کا رجحان مسلسل جاری ہے اور صرف ایک دہائی کے مختصر عرصے میں یہ قرضہ دو گنا ہو چکا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق امریکی معیشت کے لیے یہ صورتحال آنے والے دنوں میں بڑے اقتصادی چیلنجز کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس نئے ریکارڈ کے قائم ہونے کی ایک اہم ترین وجہ یہ بھی بتائی جا رہی ہے کہ حال ہی میں تیس سالہ امریکی بانڈز پر دی جانے والی شرح سود میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو کہ پچھلے تقریبا بیس سالوں میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ بلند شرح سود کی وجہ سے حکومت کو اپنے پرانے قرضوں پر زیادہ سود ادا کرنا پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں قومی خزانے پر دباؤ میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قرضوں کا یہ حجم اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومت کے اخراجات اس کی آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں اور بجٹ خسارہ قابو میں لانے کے لیے فوری اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ امریکہ جیسے دنیا کے سب سے بڑے معاشی ملک میں قومی قرضے کی اس قدر تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کی نیندیں اڑا دی ہیں۔ اس صورتحال کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے عالمی تجارت، کرنسی کی قدر اور دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں پر بھی دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر امریکی حکومت نے اس بڑھتے ہوئے قرضے اور شرح سود کے بحران پر قابو پانے کے لیے کوئی مؤثر حکمت عملی مرتب نہ کی تو آنے والے مہینوں میں عالمی معیشت کو مزید شدید جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔