LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل شام میں ترکی کی فوجی موجودگی کے خلاف، نیتنیاہو کا بیان

News Image
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک شام کی سرزمین پر ترک فوجی موجودگی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے خطے میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر سخت لاپ اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو نے ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیل شام کے اندر ترکی کی کسی بھی قسم کی فوجی موجودگی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔ حالیہ دنوں میں شام کے سیاسی اور عسکری حالات میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، جس کے بعد علاقائی طاقتیں شام میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اسی پس منظر میں اسرائیلی قیادت کی جانب سے یہ سخت ردعمل سامنے آیا ہے جو خطے میں نئی کشیدگی کا سبب بن سکتا ہے۔ بنجمن نیتنیاہو کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی سلامتی سب سے مقدم ہے اور وہ اپنی سرحدوں کے قریب کسی بھی ممکنہ خطرے کو نظر انداز نہیں کرے گا۔ اسرائیلی حکومت کا ماننا ہے کہ شام میں ترکی کی عسکری سرگرمیاں یا مستقل موجودگی تل ابیب کے سکیورٹی مفادات کے براہ راست خلاف ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی تعلقات میں سرد مہری پائی جاتی ہے اور شام کی جنگ کے تناظر میں یہ نیا بیان حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شام کے مستقبل کے حوالے سے ترکی اور اسرائیل کے مفادات ٹکرا رہے ہیں، خاص طور پر جب دونوں ممالک کے عسکری دستے یا حلیف تنظیمیں زمینی حقائق کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس صورتحال میں بین الاقوامی برادری اور خطے کے دیگر ممالک کی نظیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا اس تنازع میں مزید شدت آئے گی یا سفارتی ذرائع سے معاملات کو سنبھالا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے اس سخت بیان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں شام کا میدان جنگ صرف اندرونی فریقین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ علاقائی طاقتوں کے درمیان کشمکش کا نیا مرکز بھی بن سکتا ہے۔