World
شام اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی ملاقات، دوطرفہ تعاون پر زور
شام کے وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے اپنے دورہِ اسلام آباد کے دوران نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کو وسعت دینے اور علاقائی امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
اسلام آباد میں جمعرات کے روز شام کے وزیرِ خارجہ اسعد حسن الشیبانی اور پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کے فروغ اور علاقائی پیش رفت پر گہرے غور و خوض کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ یاد رہے کہ شامی وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی خصوصی دعوت پر ایک سرکاری دورے پر جمعرات کی صبح اسلام آباد پہنچے تھے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق، اس دورے کو دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ایک پُرجوش اور تعمیری ماحول میں محدود بیٹھک ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران پاکستان اور شام کے دیرینہ اور گہرے برادرانہ تعلقات کی تجدید کی گئی اور باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اس سے قبل، وزارتِ خارجہ کے حکام نے اسلام آباد ہوائی اڈے پر مہمان وزیرِ خارجہ کا پرتپاک استقبال کیا تھا، جہاں وزارت کے ایڈیشنل سیکرٹری (مڈل ایسٹ) نے ان کا استقبال کیا۔ شام میں عبوری قیادت کے قیام اور سال 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے یہ کسی بھی شامی اعلیٰ عہدیدار کا پہلا دورہِ پاکستان ہے، جو دمشق کی نئی سفارتی کوششوں کا مظہر ہے۔
یہ دورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان نے شام میں ایک فضائی اڈے پر اسرائیل کے غیر اشتعال انگیز حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس طرح کے اشتعال انگیز اقدامات بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اس سے خطے کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ پاکستان نے مشکل وقت میں شامی عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شام کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق، سنہ 2007 کے بعد کسی شامی وزیرِ خارجہ کا یہ پہلا دورہ ہے جو خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی فضا کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔