LIVE
Loading Breaking News...

سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی بانی کے اسپتال منتقلی فیصلے کی نظرثانی درخواست لوٹا دی

News Image
سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی کو اسپتال منتقل کرنے کے عدلیہ کے حکم کے خلاف دائر کردہ نظرثانی کی درخواست تکنیکی اعتراضات لگا کر واپس کر دی ہے۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ درخواست میں ضابطے کی خامیاں موجود تھیں۔
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی کو اسپتال منتقل کرنے سے متعلق عدلیہ کے حکم کے خلاف دائر کی گئی نظرثانی کی درخواست پر اعتراضات عائد کرتے ہوئے اسے واپس کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ اس قانونی چارہ جوئی میں بعض تکنیکی خامیوں اور ضابطے کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی تھی، جنہیں درست کیے بغیر درخواست کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا تھا۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے عائد کردہ اعتراضات میں کہا گیا ہے کہ درخواست مقررہ ضابطوں پر پوری نہیں اترتی اور اس میں ضروری قانونی دستاویزات یا طریقہ کار کی تکمیل نہیں کی گئی ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی بانی کی طبی حالت اور ان کے علاج معالجے کے حوالے سے مختلف عدالتوں میں متعدد درخواستیں دائر کی جا چکی ہیں، جن میں ان کی بہتر صحت اور طبی سہولیات کی فراہمی کے مطالبات کیے گئے تھے۔ قانونی ماہرین کے مطابق رجسٹرار آفس کے اس اقدام سے بانی پی ٹی آئی کے قانونی ٹیم کو ایک بار پھر ضابطے کی کارروائی کو درست کر کے دوبارہ رجوع کرنے کا موقع ملے گا یا پھر نئے سرے سے قانونی حکمت عملی تیار کرنا ہوگی۔ ملک کے سیاسی اور عدلیہ کےحلقوں میں اس پیش رفت کو انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں اور وکلاء کی جانب سے مسلسل یہ مؤقف اپنایا جاتا رہا ہے کہ بانی کو ان کے حقوق اور طبی ضروریات کے مطابق سہولیات فراہم کی جائیں۔ دوسری جانب، قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ سپریم کورٹ کے قواعد و ضوابط کے تحت ہر نظرثانی اپیل کو مخصوص معیارات پر پورا اترنا لازم ہوتا ہے اور جب تک یہ خامیوں کو دور نہیں کیا جاتا، عدالت اس پر سماعت کا باضابطہ آغاز نہیں کر سکتی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم اس معاملے پر مشاورت کے بعد رجسٹرار آفس کے اعتراضات کو دور کرنے کی کوشش کرے گی تاکہ اس اہم قانونی نکتہ پر دوبارہ سے عدالت میں بحث کی جا سکے۔