LIVE
Loading Breaking News...

جنوبی کوریا کا قطب شمالی کے سمندری راستے سے پہلا جہاز بھیجنے کا اعلان

News Image
جنوبی کوریا نے اپنے پہلے تجارتی کنٹینر جہاز کو قطب شمالی کے روٹ سے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس تاریخی اقدام کا مقصد ایشیا اور یورپ کے درمیان سمندری سفر کے وقت اور فاصلے میں نمایاں کمی لانا ہے۔
جنوبی کوریا نے عالمی بحری تجارت میں ایک نئے باب کا آغاز کرتے ہوئے اپنے پہلے کنٹینر جہاز کو قطب شمالی کے سمندری راستے سے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد روایتی بحری راستوں کے مقابلے میں سفر کے وقت کو کم کرنا اور نقل و حمل کے اخراجات میں بچت کرنا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور برف کے پگھلاؤ کی وجہ سے قطب شمالی کے راستے اب تجارتی نقل و حرکت کے لیے زیادہ سازگار ہوتے جا رہے ہیں۔ روایتی طور پر ایشیا سے یورپ جانے والے بحری جہاز نہر سویز کا طویل راستہ اختیار کرتے ہیں، جس میں مہینوں کا وقت لگتا ہے۔ تاہم، قطب شمالی کا یہ نیا سمندری روٹ فاصلے کو کافی حد تک گھٹا دیتا ہے، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوتی ہے بلکہ ایندھن کے اخراجات بھی نمایاں طور پر کم ہوتے ہیں۔ جنوبی کوریا کی حکومت اور بڑی شپنگ کمپنیاں اس تاریخی سفر کو کامیاب بنانے کے لیے تمام تکنیکی اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قطب شمالی کے راستے تجارتی سرگرمیوں کا آغاز عالمی لاجسٹکس انڈسٹری پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ اس سے نہ صرف جنوبی کوریا کی برآمدات کو یورپی منڈیوں تک تیزی سے رسائی ملے گی بلکہ بین الاقوامی تجارت کے روایتی طریقوں میں بھی تبدیلی آئے گی۔ تاہم، ماحولیاتی تنظیمیں اس خطے میں بحری ٹریفک بڑھنے پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کر رہی ہیں، جس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر سخت اصول وضع کیے جا رہے ہیں۔