Business
پاکستان کا امریکہ سے 10 ارب ڈالر فنانسنگ فیسلیٹی کا مطالبہ
پاکستان نے معاشی استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کرنے کے لیے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کے ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسلیٹی کے حصول کی درخواست کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد ملک میں طویل مدتی مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے معاشی استحکام کو یقینی بنانے اور اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو مزید مستحکم کرنے کی غرض سے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسلیٹی حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔ یہ مالیاتی اقدام ملکی معیشت کو درپیش بیرونی دباؤ کو کم کرنے اور روپیہ کی قدر کو استحکام بخشنے کی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہے۔ حکارتی ذرائع کے مطابق اس فیسلیٹی کے ذریعے ملک کو درآمدات اور بیرونی ادائیگیوں کے معاملے میں نمایاں ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان طویل عرصے سے معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جن میں مہنگائی، تجارتی خسارہ اور بیرونی قرضوں کی بروقت ادائیگی کے مسائل شامل ہیں۔ ان حالات میں اس قسم کی بڑی مالیاتی معاونت ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ امریکی حکام کے ساتھ اس تجویز پر بات چیت کا مقصد دوطرفہ معاشی تعاون کو فروغ دینا اور پاکستان کے مالیاتی ڈھانچے کو طویل مدتی استحکام فراہم کرنا ہے۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور امریکہ کے درمیان اس فیسلیٹی پر اتفاق ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد بحাল ہوگا بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر بھی ایک محفوظ سطح پر پہنچ جائیں گے۔ اس سے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دنیا بھر کی ریٹنگ ایجنسیوں کے سامنے پاکستان کی مالیاتی پوزیشن بھی مضبوط ہوگی۔ حکومت اس فیسلیٹی کے حصول کے لیے تمام ممکنہ سفارتی اور معاشی راوبط کو بروئے کار لانے میں مصروف ہے۔