Pakistan
اسلام آباد ہائی کورٹ: چینی شہریوں کی مبینہ نظربندی پر سماعت
اسلام آباد ہائی کورٹ نے تین چینی شہریوں کی مبینہ غیر قانونی نظربندی سے متعلق کیس کی سماعت کی ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام سے اس معاملے پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے تین چینی شہریوں کی مبینہ غیر قانونی نظربندی کے ایک اہم مقدمے کی سماعت کی۔ یہ کیس دارالحکومت میں سکیورٹی اور قانونی امور کے حوالے سے خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں عدالتِ عالیہ نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت کے سامنے اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ آیا ان غیر ملکی شہریوں کو کسی ضابطے کے تحت حراست میں لیا گیا تھا یا یہ اقدام غیر قانونی تھا۔
ذرائع کے مطابق عدالت میں پیش ہونے والے وکلا نے موقف اختیار کیا کہ تینوں چینی شہریوں کو بغیر کسی باقاعدہ قانونی جواز یا عدالتی حکم کے حراست میں رکھا گیا ہے، جو کہ بنیادی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت فوری طور پر ان کی بازی یابی اور انہیں رہا کرنے کا حکم صادر کرے تاکہ اس نوعیت کے واقعات سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
عدالتِ عالیہ کے جج صاحبان نے کیس کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا اور متعلقہ سرکاری حکام کو ہدایت کی کہ وہ اس معاملے میں فوری طور پر اپنی رپورٹ جمع کروائیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی بھی شخص یا غیر ملکی کو بغیر کسی ٹھوس قانونی کارروائی کے طویل عرصے تک حراست میں نہیں رکھا جا سکتا۔ اس ضمن میں حکام کو آئندہ سماعت پر مکمل ریکارڈ پیش کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔
اس کیس کی بازگشت سفارتی اور قانونی حلقوں میں بھی سنی جا رہی ہے، کیونکہ پاکستان اور چین کے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کے تناظر میں چینی شہریوں کی سکیورٹی اور قانونی حقوق کا تحفظ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سماعت پر اس مبینہ نظربندی کے حوالے سے مزید حقائق سامنے آئیں گے اور عدالت اس پر کوئی واضح قانونی فیصلہ صادر کرے گی۔