Technology
فارسٹر اے آئی ڈسرپشن ماڈل اور سافٹ ویئر انڈسٹری کا مستقبل
سال دو ہزار چھبیس کے دوران سافٹ ویئر انڈسٹری میں اے آئی کے اثرات کے حوالے سے جاری بحث صرف نشستوں پر مبنی آمدنی تک محدود نہیں ہے۔ فارسٹر نے ایک نیا ماڈل متعارف کرایا ہے جو مصنوعی ذہانت کی وجہ سے پیدا ہونے والی نو مختلف تبدیلیوں کا احاطہ کرتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کے اس دور میں سافٹ ویئر انڈسٹری کے مستقبل کو لے کر مختلف آراء سامنے آرہی ہیں، اور حال ہی میں ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ بحث کا دائرہ کار بہت محدود ہے۔ سال دو ہزار چھبیس کے تناظر میں جو مباحثے 'ساپوکی لپس' کے گرد گھوم رہے ہیں، وہ درحقیقت ایک بہت بڑے منظر نامے کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ دیکھ رہے ہیں۔ زیادہ تر تبصرہ نگاروں کی توجہ صرف اس بات پر ہے کہ کس طرح اے آئی ایجنٹس روایتی سافٹ ویئر لائسنسنگ کے نظام کو نقصان پہنچائیں گے اور نشستوں پر مبنی آمدنی میں کمی واقع ہوگی۔ تاہم، یہ پہلو اس پوری لہر کے نو اہم ترین خلل انگیز عوامل میں سے صرف ایک کی نمائندگی کرتا ہے۔
اس پس منظر میں معروف تحقیقی ادارے فارسٹر نے ایک نیا 'اے آئی ڈسرپشن ماڈل' متعارف کرایا ہے جس کا مقصد کاروباری اداروں اور تکنیکی ماہرین کو اس تبدیلی کا زیادہ وسیع اور جامع زاویہ فراہم کرنا ہے۔ اس نئے ماڈل کے تحت یہ واضح کیا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف سافٹ ویئر کی خرید و فروخت کے روایتی طریقوں کو تبدیل کر رہی ہے، بلکہ یہ پورے کاروباری ماحولیاتی نظام، کسٹمر سروس، ڈیٹا مینجمنٹ اور پروڈکٹ ڈویلپمنٹ کے عمل کو بھی از سر نو تشکیل دے رہی ہے۔ لائسنسوں کی فروخت میں کمی یقیناً ایک بڑا چیلنج ہے، لیکن یہ واحد خطرہ یا واحد موقع نہیں ہے جس کا سامنا کارپوریٹ دنیا کو آنے والے برسوں میں کرنا پڑ سکتا ہے۔
فارسٹر کا یہ ماڈل کارپوریشنز کو خبردار کرتا ہے کہ وہ صرف ایک زاویے پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے تمام نو ڈسرپشن فیکٹرز کا گہرائی سے مطالعہ کریں۔ اس میں تکنیکی مہارت کی نئی تعریف، انفراسٹرکچر کی ضروریات، سیکیورٹی کے تقاضے اور افرادی قوت کی تربیت جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔ جب تک ادارے ان تمام جہتوں کو مدنظر نہیں رکھیں گے، وہ مارکیٹ میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کا مؤثر انداز میں مقابلہ نہیں کر پائیں گے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اے آئی کا یہ طوفان صرف سافٹ ویئر کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہر اس شعبے کو متاثر کرے گا جو ڈیجیٹل آلات اور سسٹمز پر انحصار کرتا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ کارپوریٹ سیکٹر اس نئے ماڈل کو اپناتے ہوئے اپنی حکمت عملی میں کس قسم کی تبدیلیاں لاتا ہے۔ کیا روایتی کمپنیاں اے آئی ایجنٹس کی اس یلغار کے سامنے ٹک پائیں گی یا پھر مکمل طور پر نئے کاروباری ماڈلز ان کی جگہ لیں گے؟ ان تمام سوالات کے جوابات اس بات پر منحصر ہیں کہ ادارے کتنی جلدی اس وسیع تر حقیقت کو سمجھتے ہیں کہ 'ساپوکی لپس' صرف ایک آغاز ہے، اور اصل تبدیلی اس کے نو مختلف ڈسرپشن فیکٹرز کے اندر چھپی ہوئی ہے۔