World
ماں اور بوائے فرینڈ کو بچی کے قتل میں قید
برطانیہ کی ایک عدالت نے کم سن بچی ازابیل ویلش کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کے الزام میں اس کی ماں اور اس کے بوائے فرینڈ کو قید کی سزا سنا دی ہے۔ عدالت میں سماعت کے دوران انکشاف ہوا کہ بچی کو قتل سے قبل انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
برطانیہ میں ایک انتہائی دل دہلا دینے والے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے ایک کم سن بچی ازابیل ویلش کے قتل کے جرم میں اس کی ماں اور اس کے بوائے فرینڈ کو سزائے قید سنا دی ہے۔ اس دردناک واقعے نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور بچوں کے حقوق کے تحفظ پر ایک بار پھر شدید سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ عدالت میں استغاثہ اور تفتیشی حکام کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد سے معلوم ہوا کہ معصوم بچی کو اس کے اپنے ہی گھر میں انتہائی خطرناک اور مجرمانہ غفلت کے ساتھ ساتھ سفاکانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ کم سن ازابیل ویلش کو موت کے گھاٹ اتارنے سے قبل طویل عرصے تک جسمانی اور ذہنی اذیت دی گئی۔ تفتیشی افسران کے مطابق بچی کے جسم پر تشدد کے جو نشانات پائے گئے، وہ انتہائی وحشیانہ اور سادی مزاج کی غمازی کرتے ہیں۔ ملزمان نے نہ صرف بچی کو پرتشدد ماحول میں رکھا بلکہ اس کی دیکھ بھال کرنے کے بنیادی قانونی اور اخلاقی فرض سے بھی منہ موڑ لیا، جو کہ ایک سنگین جرم ہے۔ دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ کس طرح معصوم بچی خوف اور درد کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور تھی۔ اس دلخراش مقدمے کے فیصلے کے وقت عدالت کا ماحول انتہائی غمگین اور صدمہ انگیز تھا۔ جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معصوم بچوں پر تشدد اور انہیں اس طرح بے دردی سے موت کے منہ میں دھکیلنا ناقابل معافی جرم ہے۔ عدالت نے تمام شواہد اور گواہوں کے بیانات کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد دونوں مجرموں کو سزائے قید سنانے کا حکم دیا۔ سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے تاہم اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ معاشرے میں ایسے گھناؤنے جرائم کے سدباب کے لیے مزید سخت اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ کسی اور معصوم کی جان اس طرح ضائع نہ ہو۔