LIVE
Loading Breaking News...

آبِ ہرمز میں جہاز رانی: امریکہ یا ایران، کس کا خوف زیادہ؟

News Image
آبِ ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے تازہ ترین ٹریفک ڈیٹا سے انکشاف ہوا ہے کہ بیشتر بحری جہاز اپنی شناخت چھپا کر سفر کرنے پر مجبور ہیں۔ تجزیے کے مطابق یہ جہاز امریکہ کے مقابلے میں ایران کی کارروائیوں سے زیادہ خائف نظر آتے ہیں۔
بین الاقوامی تجارتی گزرگاہ آبِ ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے حوالے سے سامنے آنے والے تازہ ترین اعداد و شمار نے ایک اہم صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سمندری امور کے ماہرین اور ٹریفک ڈیٹا کا جائزہ لینے والوں کا کہنا ہے کہ اس خطے سے گزرنے والے بیشتر جہاز اپنی شناخت چھپانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں تاکہ وہ کسی بھی ناگہانی کشیدگی یا خطرناک صورتحال سے محفوظ رہ سکیں۔ تاہم، اس عمل کے دوران جو رجحان سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ جہاز کے عملے اور کمپنیاں امریکہ کے قوانین یا موجودگی کے مقابلے میں ایران کے ردعمل سے زیادہ خوفزدہ دکھائی دیتی ہیں۔ دنیا بھر میں تیل اور دیگر اہم سامان کی ترسیل کے لیے آبِ ہرمز کو ایک انتہائی حساس اور کلیدی حیاتاتی رگ کی حیثیت حاصل ہے۔ یہاں سے روزانہ کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر تیل بردار جہاز اور تجارتی کشتیاں گزرتی ہیں۔ حالیہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے بعد سے جہاز رانی کمپنیوں نے اپنی سکیورٹی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔ اس حوالے سے سامنے آنے والے شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ جہاز مالکان امریکی پابندیوں یا اقدامات کے مقابلے میں تہران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خطرے کو زیادہ سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جہازوں کی اکثریت اس اہم گزرگاہ سے گزرتے وقت اپنے ٹریکنگ سسٹمز کو بند کرنے یا سگنلز کو مبہم بنانے کا سہارا لے رہی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال خطے میں بڑھتے ہوئے عدم اعتماد اور سلامتی کے خدشات کو ظاہر کرتی ہے۔ بین الاقوامی تجارت سے وابستہ اداروں نے اس بحری راستے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح کی چپقلش سے نہ صرف عالمی توانائی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ تجارتی لاگت میں بھی بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اگر اس صورتحال کو کنٹرول نہ کیا گیا تو آبِ ہرمز میں جہاز رانی مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جس سے عالمی معیشت پر براہِ راست منفی اثرات مرتب ہوں گے۔