World
یورپ میں گرمی اور توانائی کا بحران معاشی ترقی کے لیے خطرہ
یورپ کو اس وقت شدید گرم لہروں اور بڑھتے ہوئے توانائی کے بحران کی صورت میں دوہرے چیلنج کا سامنا ہے۔ یہ دونوں عوامل خطے میں معاشی ترقی اور پیداواری صلاحیت کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔
یورپ کو اس وقت موسم کی شدت اور جیو پولیٹیکل کشیدگی کی وجہ سے ایک تاریخ کے مشکل ترین دوہرے بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک طرف شدید گرم لہریں براعظم کے مختلف حصوں کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہیں، جس سے نہ صرف انسانی صحت متاثر ہو رہی ہے بلکہ کام کی پیداواری صلاحیت اور کاروباری سرگرمیاں بھی جمود کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔ گرمی کی یہ لہریں زرعی پیداوار اور پانی کے ذخائر پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں، جس سے معاشی ماہرین کی تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس نے براہ راست یورپ کے توانائی کے بلوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔ توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے یورپی صنعتوں بالخصوص مینوفیکچرنگ اور بھاری کارخانوں کے لیے پیداوار جاری رکھنا انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔ اس صورتحال نے افراط زر کے خطرات کو بھی دوبارہ ہوا دی ہے، جس سے عام شہریوں کی قوت خرید بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ یورپی یونین کے رہنما اور معاشی پالیسی ساز اس دوہرے دباؤ سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گرمیوں کے یہ حالات طویل عرصے تک برقرار رہے اور توانائی کی فراہمی میں خلل جاری رہا، تو یورپ کو ایک شدید معاشی کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ حکومتوں کے لیے اب یہ سب سے بڑا امتحان بن گیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو مہنگی توانائی سے بچائیں اور ساتھ ہی صنعتی پہیہ بھی چلتا رکھیں۔