AI
مصنوعی ذہانت کا مستقبل اور نوجوان نسل کے بڑھتے ہوئے خدشات
ایک حالیہ چارٹ سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ بڑی کمپنیاں جن نوجوانوں کو اے آئی کا بنیادی صارف سمجھ رہی تھیں، وہی اس ٹیکنالوجی سے بدظن ہو رہے ہیں۔ تیس سال سے کم عمر افراد میں مصنوعی ذہانت کے فوائد کے مقابلے میں اس کے نقصانات اور خطرات پر تشویش کا اظہار کرنے والوں کا تناسب بڑھ گیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں جہاں ایک طرف مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو مستقبل کا معمار قرار دیا جا رہا ہے، وہیں دوسری طرف ایک ایسا انکشاف سامنے آیا ہے جو بڑی کمپنیوں کے لیے ایک بڑا انتباہ ہے۔ معروف اداروں کی جانب سے اس امید پر بڑی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے کہ 'اے آئی نیٹیو' یعنی اس ٹیکنالوجی کے ساتھ پروان چڑھنے والی نوجوان نسل اسے ہاتھوں ہاتھ لے گی، لیکن حقیقت اس کے برعکس نظر آ رہی ہے۔ ایک حالیہ تفصیلی چارٹ اور سروے سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوانوں میں اس ٹیکنالوجی کے تئیں جوش و خروش کم اور خدشات کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق تیس سال سے کم عمر کے بالغ افراد میں اب اس ٹیکنالوجی کو لے کر 'پرجوش' ہونے والوں کے مقابلے میں 'تشویش میں مبتلا' افراد کا تناسب نمایاں طور پر زیادہ ہو گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل جو ڈیجیٹل دور میں پلی بڑھی ہے، وہ اے آئی کے معاشرتی، معاشی اور اخلاقی اثرات کو لے کر زیادہ سنجیدہ اور فکر مند ہے۔ روزگار کے مواقع چھن جانے کا خطرہ، پرائیویسی کے مسائل اور ڈیجیٹل جادوگری کے نام پر پھیلنے والی غلط معلومات وہ اہم عوامل ہیں جنہوں نے نوجوانوں کے دلوں میں اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کر دیے ہیں۔
ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے یہ صورتحال ایک لمحہ فکریہ ہے۔ وہ کمپنیاں جو اے آئی کو ہر شعبے میں زبردستی نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، انہیں اب صارفین بالخصوص نوجوان طبقے کے اعتماد کو بحال کرنے کے لیے نئے سرے سے حکمت عملی بنانی ہوگی۔ اگر نئی نسل ہی اس ٹیکنالوجی سے دور بھاگنے لگی یا اس کے منفی اثرات سے خوفزدہ رہی تو مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی کمرشل کامیابی کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکنالوجی ادارے شفافیت کو فروغ دیں اور ایسے حفاظتی اقدامات کریں جو صارفین کے خدشات کا ازالہ کر سکیں۔