Business
ایجنسی بلیک باکس اور اے آئی: ہوریزن میڈیا کے باب لارڈ کا تجزیہ
ہوریزن میڈیا کے باب لارڈ کا کہنا ہے کہ ایجنسیز کو محض لاگت کی بچت کے بجائے اشتہار دہندگان کے لیے ترقیاتی شراکت دار بننا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت نے مارکیٹنگ کی دنیا میں روایتی رکاوٹوں کو توڑنا شروع کر دیا ہے۔
موجودہ دور میں اشتہاری اور مارکیٹنگ کی دنیا میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جن میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا کردار سب سے نمایاں ہے۔ ہوریزن میڈیا سے وابستہ باب لارڈ نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ اب ایجنسیوں کے روایتی کام کرنے کے طریقوں میں تبدیلی کا وقت آ گیا ہے۔ ان کے مطابق، زیادہ تر ایجنسیاں محض لاگت کی بچت اور اخراجات میں کمی جیسے غلط مسائل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں، جبکہ اصل میں مصنوعی ذہانت نے اس سے کہیں زیادہ قیمتی دروازے کھول دیے ہیں۔
اے آئی کی بدولت اب ایجنسیوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ محض روایتی خدمات فراہم کرنے والے ادارے کے بجائے برانڈز اور اشتہار دہندگان کے لیے ایک حقیقی ترقیاتی شراکت دار کا کردار ادا کریں۔ باب لارڈ کا کہنا ہے کہ ماضی میں ایجنسیوں کے اندرونی امور اور طریقہ کار ایک بلیک باکس کی طرح پوشیدہ رہتے تھے، لیکن اب شفافیت اور کارکردگی کی نئی لہر نے اس نظام کو توڑنا شروع کر دیا ہے۔ مارکیٹ میں مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے کمپنیوں کو اے آئی کی اس صلاحیت کو اپنانا ہوگا جو کاروبار کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
اس نئے منظر نامے میں، اشتہاری ایجنسیوں کو اپنی حکمت عملی پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جو ادارے صرف اخراجات کم کرنے کے چکر میں رہیں گے وہ مارکیٹ کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ اس کے برعکس، جو کمپنیاں مصنوعی ذہانت کو ترقی اور کسٹ머 کی کامیابی کا ذریعہ سمجھیں گی، وہ طویل المدتی بنیادوں پر زیادہ کامیاب ہوں گی۔ ہوریزن میڈیا کا یہ تجزیہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور اشتہار بازی کا شعبہ مکمل طور پر تبدیل ہونے والا ہے۔