World
برطانیہ میں گرمی سے اموات: ریکارڈ تعداد کا انکشاف اور وارننگ
برطانیہ کی ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی کے ابتدائی تخمینے کے مطابق مئی اور جون کی شدید گرمی کی لہروں کے دوران تقریباً 2,877 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریبا دگنے ہیں، جو کہ حکام کے لیے شدید تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔
برطانیہ میں جاری گرمی کی لہر کے دوران اموات کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد حکام نے خبردار کیا ہے کہ ملک اس سال گرمی سے متعلق اموات کا نیا ریکارڈ قائم کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ برٹش ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی (UKHSA) کی جانب سے جاری کردہ ایک ابتدائی تخمینے کے مطابق، رواں سال مئی اور جون کے مہینوں میں پڑنے والی شدید گرمی کی لہروں کے نتیجے میں اندازاً 2,877 اموات ہوئیں۔ یہ تعداد گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران ریکارڈ کی جانے والی اموات کے مقابلے میں تقریباً دگنی ہے، جو کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات اور انسانی صحت پر ان کے منفی اثرات کی واضح عکاسی کرتی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے کی وجہ سے بزرگ افراد اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو سب سے زیادہ خطرات کا سامنا ہے۔ اس صورتحال نے ملک کے طبی اور فلاحی اداروں کو ہائی الرٹ پر جانے پر مجبور کر دیا ہے تاکہ شہریوں کو ممکنہ خطرات سے بچایا جا سکے اور گرمی کے منفی اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ ایجنسی کے عہدیداروں کا مزید کہنا ہے کہ اگر گرمی کا یہ سلسلہ آنے والے مہینوں میں بھی جاری رہا تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔ حکومت اور صحت عامہ کے اداروں کی جانب سے عوام کے لیے ہدایات جاری کی جا رہی ہیں کہ وہ شدید دھوپ میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کریں اور ٹھنڈی جگہوں پر رہیں۔ دوسری جانب، ماحولیاتی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی تیار کرے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے انسانی بحرانوں سے بچا جا سکے اور شہریوں کی زندگیوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔