Technology
امریکی محکمہ داخلہ کی جانب سے شہریوں کے ڈی این اے کا حصول
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے سینٹر آن پرائیویسی اینڈ ٹیکنالوجی کی نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ امریکی محکمہ داخلہ نے لاکھوں شہریوں کا ڈی این اے اکٹھا کیا ہے۔ یہ اقدام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک انتہائی وسیع جینیاتی ڈیٹا بیس بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے سینٹر آن پرائیویسی اینڈ ٹیکنالوجی کی جانب سے سامنے آنے والی ایک نئی تحقیق میں یہ ہولناک انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی محکمہ داخلہ (ڈی ایچ ایس) نے تیس لاکھ سے زائد شہریوں کا جینیاتی مواد یعنی ڈی این اے خفیہ طور پر اکٹھا کر لیا ہے۔ یہ کارروائی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے ایک انتہائی وسیع پیمانے پر جینیاتی ڈیٹا بیس تیار کرنے کے وسیع تر منصوبے کا حصہ ہے، جس نے شہریوں کی ذاتی زندگی اور رازداری کے تحفظ کے حوالے سے شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔
محققین کے مطابق اس ڈیٹا کے جمع ہونے سے ملک بھر میں ایک خطرناک ڈیجیٹل نگرانی کا نظام تشکیل پا رہا ہے جس میں بغیر کسی واضح عدالتی وارنٹ یا بڑے پیمانے پر مجرمانہ ریکارڈ کے عام شہریوں کے حیاتیاتی نمونے محفوظ کیے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس عمل پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے بنیادی شہری آزادیوں اور پرائیویسی کے قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے ڈیٹا بیس کے غلط استعمال سے شہریوں کے بنیادی حقوق خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جرائم کی تفتیش میں مدد فراہم کرنا ہے، تاہم اس بات کی کوئی یقینی ضمانت موجود نہیں ہے کہ یہ حساس معلومات محفوظ ہاتھوں میں رہیں گی۔ سائبر سکیورٹی کے ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ جینیاتی ڈیٹا کا اس پیمانے پر جمع کیا جانا اور اسے مرکزی سرورز پر محفوظ کرنا ہیکرز اور مجرمانہ عناصر کے لیے ایک بڑا ہدف بن سکتا ہے، جس سے مستقبل میں سنگین نوعیت کے سکیورٹی خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔