AI
مصنوعی ذہانت کے ضوابط اور عالمی سیاست کا تجزیہ
مصنوعی ذہانت کے عالمی ضوابط کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بحث جاری ہے کہ قواعد کون بنائے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں حفاظتی اقدامات ختم کرنے کے بعد چین نے اس خلا کو پُر کرنے کی کوشش کی ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ ہی اب دنیا بھر میں یہ سوال شدت سے سر اٹھا رہا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے لیے اصول و ضوابط کون طے کرے گا؟ پچھلے سال امریکی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اے آئی کے تحفظات اور ضوابط کو ختم کرتے ہوئے عملی طور پر ایک غیر جانبدارانہ اور نرم پالیسی اپنائی گئی، جس کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی کے شعبے کو غیر ضروری پابندیوں سے آزاد رکھنا تھا۔ اس پالیسی کے نفاذ کے بعد عالمی سطح پر ٹیکنالوجی کے ضوابط کا ایک خلا پیدا ہو گیا، جسے پر کرنے کے لیے اب مختلفممالک کی طرف سے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چین نے اس خلا میں قدم رکھا ہے اور مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار کی تشکیل میں ایک ذمہ دار قوت کے طور پر ابھرنے کی کوشش کی ہے۔ بیجنگ کی جانب سے اب ٹیکنالوجی کے عالمی معیار اور ضوابط وضع کرنے میں گہری دلچسپی لی جا رہی ہے تاکہ دنیا بھر میں اے آئی کے استعمال کو ایک مخصوص فریم ورک کے تحت چلایا جا سکے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چین کا یہ ریگولیٹری ماڈل حقیقت میں کیسا دکھائی دیتا ہے اور اس کے عالمی ٹیکنالوجی کی مارکیٹ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ چین کا ماڈل سخت حکومتی کنٹرول، سنسرشپ اور قومی سلامتی کے تقاضوں کے گرد گھومتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، جب سپر پاورز اس میدان میں مختلف سمتوں میں گامزن ہوں گی، تو اس سے عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے معیار میں تقسیم کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ضوابط کے خاتمے سے جہاں نجی کمپنیوں کو کھلی چھوٹ ملی ہے، وہیں چین کی جانب سے ضابطہ سازی کی یہ کوششیں دوسری ریاستوں کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر رہی ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ دنیا کے دیگر ممالک اور بالخصوص یورپی یونین اس دوڑ میں کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں اور کون سا ماڈل عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔