LIVE
Loading Breaking News...

ماحولیاتی پالیسی کا جال اور اس کی ناکامی کی وجوہات

News Image
ماحولیاتی پالیسیوں میں گروپ کی شناخت اور سماجی حیثیت کی وجہ سے ناکامی پر بھی پرانی روش تبدیل نہیں کی جاتی۔ ماہرین کے مطابق کرلیڈینشل پالیسی اسٹیبلشمنٹ اس ناکام بیانیے کو مزید ہوا دیتی ہے۔
ماحولیاتی پالیسیوں کے حوالے سے ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے جس میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں آب و ہوا سے نمٹنے کے لیے بنائی جانے والی پالیسیاں ایک ایسے جال میں پھنس چکی ہیں جہاں بار بار کی ناکامیوں کے باوجود اس روش کو ترک نہیں کیا جاتا۔ کلیٹیل (Clintel) سے تعلق رکھنے والے ایورٹ ڈورنہوف کے مطابق گروپ کی شناخت، سماجی حیثیت اور ایسی پالیسی اسٹیبلشمنٹ جو روایتی اسناد پر انحصار کرتی ہے، ماحولیاتی بیانیے کو کسی بھی مایوس کن نتیجے سے مکمل طور پر محفوظ بنا دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پالیسیاں نتائج کے بجائے گروہی مفادات کے گرد گھومنے لگتی ہیں۔ اس صورتحال کو ماہرین نے ماحولیاتی پالیسی کا جال قرار دیا ہے جہاں کسی بھی منصوبے یا حکمت عملی کی ناکامی اس بات کا باعث نہیں بنتی کہ اس پر نظرثانی کی جائے، بلکہ اس کے برعکس ناکامی کو مزید اسی نوعیت کی پالیسیاں نافذ کرنے کے جواز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ جدید دور میں ماحولیاتی مسائل پر بات کرنا اور مخصوص پالیسیوں کی حمایت کرنا بعض حلقوں میں سماجی حیثیت اور اشرافیہ کی شناخت کی علامت بن چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زمینی حقائق اور ناکام نتائج کے باوجود اس بیانیے پر سوال اٹھانا مشکل بنا دیا گیا ہے اور اختلافِ رائے کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک پالیسی سازی کے عمل سے غیر ضروری گروہی تعصبات اور روایتی اسناد پر مبنی بالادستی کو ختم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک حقیقی اور مؤثر ماحولیاتی اقدامات کا نفاذ ممکن نہیں۔ دنیا کو اس وقت سنجیدہ موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے جن سے نمٹنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر شفاف اور لچکدار حکمت عملی کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے بند حصار کی جہاں غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے انہیں چھپانے یا دہرانے پر زور دیا جائے۔