Technology
زگ زیگ کولنگ دیوار - سائنسدانوں کی نئی ایجاد جو درجہ حرارت کم کرے
سائنسدانوں نے 2024 میں ایک نئے زگ زیگ شکل کی دیوار کے پروٹوٹائپ کا تجربہ کیا ہے جو روایتی کولنگ دیواروں کے مقابلے میں 3.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ ٹھنڈی پائی گئی۔ یہ جدید ڈیزائن زمین سے نکلنے والی حرارت کو منعکس کرنے اور آسمان کی طرف گرمی کو خارج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سائنسدانوں اور انجینئرز نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی انوکھی دیوار کا پروٹوٹائپ تیار کیا ہے جو روایتی دیواروں کے مقابلے میں زیادہ مؤثر طریقے سے درجہ حرارت کو کم رکھتی ہے۔ سال 2024 کے دوران کیے جانے والے تجربات میں یہ بات سامنے آئی کہ زگ زیگ یا مڑے ہوئے ڈیزائن کی حامل یہ دیوار عام ریڈی ایٹو کولنگ دیواروں کی نسبت 3.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک زیادہ ٹھنڈی رہ سکتی ہے۔ بیرونی ماحول میں کیے گئے ان تجربات نے عمارتوں کی کولنگ کے نظام میں انقلاب برپا کرنے کی امیدیں روشن کر دی ہیں۔
اس جدید دیوار کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اس کی مخصوص جیومیٹری سورج کی روشنی اور زمین سے آنے والی حرارت کو بہترین طریقے سے ہینڈل کرتی ہے۔ یہ ڈھانچہ نہ صرف اردگرد کے گرم زمینی سطحوں سے خارج ہونے والی حرارتی توانائی کو کامیابی سے منعکس کرتا ہے بلکہ اندرونی حرارت کو براہ راست آسمان کی کھلی فضا میں منتقل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس دوہرے عمل کی وجہ سے دیوار کے اردگرد کا درجہ حرارت نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے، جس سے مستقبل میں ایئر کنڈیشنگ اور بجلی کی کھپت میں بڑی کمی لائی جا سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت اور اربن ہیٹ آئی لینڈ کے اثرات سے نمٹنے کے لیے اس قسم کی تعمیراتی جدتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ روایتی عمارات سورج کی تپش کو جذب کر کے اردگرد کے ماحول کو مزید گرم کر دیتی ہیں، جب کہ یہ زگ زیگ دیوار قدرتی طریقوں سے حرارت کا اخراج کرتی ہے۔ انجینئرز اب اس پروٹوٹائپ کو مزید بہتر بنانے اور تجارتی پیمانے پر عمارتوں میں اس کے استعمال کے لیے مزید تحقیق اور ٹیسٹنگ کر رہے ہیں۔