Business
برآمدات اور توانائی کی قیمتیں: حکومت کا نیا جامع منصوبہ منظور
حکومت نے ملک میں توانائی کے شعبے میں اہم اصلاحات کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد برآمدات کو فروغ دینا ہے۔ اس ضمن میں 2027 سے 2060 تک کے طویل مدتی منصوبے کے تحت سستی اور قابل رسائی توانائی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
ملکی برآمدات میں اضافے اور صنعتی پہیے کو تیز رفتار رکھنے کے لیے توانائی کی سستی اور بلاتعطل فراہمی کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ حالیہ پالیسی فیصلوں کے تحت وزیرِ اعظم نے پاور سیکٹر میں اہم اصلاحات کی منظوری دے دی ہے تاکہ صنعتوں کو مسابقتی نرخوں پر بجلی مہیا کی جا سکے۔ حکومتی حلقوں کا ماننا ہے کہ جب تک پیداواری لاگت میں کمی نہیں لائی جاتی، بین الاقوامی منڈیوں میں ملکی مصنوعات کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔ اسی تناظر میں نیشنل الیکٹروسٹی پلان میں ترامیم کی توثیق کی گئی ہے جو مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی ہیں۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سمیت کاروباری برادری نے اس نئے فریم ورک کا خیرمقدم کیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ پالیسیوں کی تشکیل میں تجارتی و کاروباری طبقے کی رائے کو بنیادی اہمیت دی جانی چاہیے۔ بزنس کمیونٹی کا دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں استحکام لایا جائے تاکہ چھوٹے اور بڑے دونوں درجے کی صنعتیں بحران سے نکل سکیں۔ اس کے علاوہ حکومت نے 2027 سے 2060 تک کے طویل مدتی منصوبے کی بھی منظوری دی ہے جس کا بنیادی مقصد ملک بھر میں قابلِ اعتماد، سستی اور سب کی پہنچ میں توانائی کی دستیابی کو یقینی بنانا ہے۔ اس طویل مدتی حکمت عملی سے نہ صرف توانائی کے شعبے کے دیرینہ مسائل حل ہوں گے بلکہ معاشی استحکام اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس منصوبے پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کیا گیا تو آنے والے برسوں میں پاکستان کی معیشت اور برآمدی شعبے میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئے گی، جس سے ملک میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا۔