LIVE
Loading Breaking News...

عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں ساڑھے چار ہزار ڈالر سے زائد پر برقرار

News Image
امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو کے منٹس اور ٹریژری بائی بیکس کے بعد عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا ہے۔ سونا ساڑھے چار ہزار ڈالر فی اونس کی اہم سطح سے اوپر ٹریڈ کر رہا ہے۔
عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں نے حالیہ دنوں میں اہم پیشرفت ریکارڈ کی ہے اور فیڈرل ریزرو کے منٹس سامنے آنے کے بعد سونا ساڑھے چار ہزار ڈالر فی اونس کی نفسیاتی حد سے اوپر برقرار ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی مرکزی بینک کے حالیہ فیصلوں اور شرح سود کے تناظر میں سرمایہ کار سونے کی مارکیٹ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دوسری جانب امریکی ٹریژری کے اقدامات اور بانڈ ییلڈز میں کمی کے باعث قیمتی دھاتوں کے نرخوں کو نمایاں سہارا ملا ہے جس سے مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ رائٹرز اور دیگر مالیاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق سونے کی قیمتیں دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب گھوم رہی ہیں جبکہ سلور یا چاندی کی مارکیٹ میں بھی تیزی کا رحجان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ٹریژری بائی بیکس کے عمل نے بانڈ ییلڈز کو نیچے دھکیل دیا ہے جس کے نتیجے میں روایتی سرمایہ کاری کے مقابلے میں سونے کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔ سرمایہ کار اس صورتحال کو محفوظ سرمایہ کاری کے طور پر دیکھ رہے ہیں کیونکہ عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال اور افراط زر کے خدشات تاحال برقرار ہیں۔ امریکہ میں مانیٹری پالیسی کے مستقبل کے حوالے سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے جاری کردہ منٹس نے مالیاتی منڈیوں کو ایک نئی سمت دی ہے۔ شرح سود میں ممکنہ کٹوتھی کے اشاروں نے سونے کی قیمتوں کو مزید گرنے سے بچایا ہے اور اس کی قدر کو ساڑھے چار ہزار ڈالر سے اوپر مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں معاشی اشاریے اور افراط زر کے اعداد و شمار سونے کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے جبکہ عالمی سرمایہ کار فیڈرل ریزرو کے آئندہ بیانات کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔