Health
سائیکلو سپورا پرجیوی انفیکشن: برطانیہ میں سیاحوں کے لیے صحت کا انتباہ
برطانیہ میں اپریل کے بعد سے خطرناک سائیکلو سپورا پرجیوی انفیکشن کے 67 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جن کا تعلق زیادہ تر میکسیکو سے واپس آنے والے مسافروں سے ہے۔ طبی ماہرین نے سیاحوں کو خوراک اور پانی کے استعمال میں خصوصی احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
برطانیہ میں صحت کے حکام نے بیرون ملک جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم انتباہ جاری کیا ہے جس میں ایک خطرناک اور تکلیف دہ پرجیوی انفیکشن سے ہوشیار رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ حالیہ دنوں میں برطانیہ کے اندر اس بیماری کے کیسز میں ایک تیز رفتار اور تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے، جس نے طبی ماہرین کی تشویش کو بڑھا دیا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال اپریل سے لے کر اب تک اس انفیکشن کے مجموعی طور پر 67 مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں، جو کہ صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتے جا رہے ہیں۔ طبی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان متاثرہ افراد میں سے اکثریت ان سیاحوں کی ہے جو حال ہی میں میکسیکو کے دورے سے واپس اپنے وطن لوٹے ہیں۔
سائیکلو سپورا نامی یہ پرجیوی انسانوں کے نظام ہاضمہ کو شدید متاثر کرتا ہے اور اس کی زد میں آنے والے افراد کو شدید نوعیت کے معدنی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس انفیکشن کی علامات میں پانی کی طرح اسہال، پیٹ میں شدید مروڑ، متلی، الٹی، اور انتہائی تھکن شامل ہیں، جو مریض کو جسمانی طور پر نڈھال کر دیتی ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ پرجیوی عام طور پر آلودہ خوراک یا پانی کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ خاص طور پر وہ سیاح جو ترقی پذیر ممالک کا سفر کرتے ہیں، اگر وہ صفائی ستھرائی کے اصولوں کا خیال نہ رکھیں اور کچی سبزیاں یا غیر ابلا ہوا پانی استعمال کریں تو وہ اس بیماری کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔
حکام نے سیاحوں پر زور دیا ہے کہ وہ سفر کے دوران اپنی خوراک کے انتخاب میں انتہائی احتیاط برتیں اور صرف بوتل بند یا ابلے ہوئے پانی کا ہی استعمال کریں۔ اس کے علاوہ کچے پھلوں اور سبزیوں کو خود چھیل کر کھانے یا اچھی طرح دھو کر استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ اس خطرناک پرجیوی سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔ برطانوی محکمہ صحت کے ماہرین متاثرہ افراد کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے تمام ممکنہ حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ سیاحتی اداروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے مسافروں کو اس انفیکشن سے متعلق آگاہی فراہم کریں تاکہ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔