World
مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کا تشدد اور فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی
ہیومن رائٹس واچ کی تازہ رپورٹ کے مطابق ریاستی سرپرستی میں اسرائیلی آباد کاروں کے تشدد کی وجہ سے مغربی کنارے کے فلسطینی باشندے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ تنظیم نے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے عالمی پابندیوں اور فوجی امداد معطل کرنے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
عالمی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ (HRW) کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم بیان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ریاستی سرپرستی میں ہونے والی اسرائیلی آباد کاروں کی پرتشدد کارروائیوں کی وجہ سے مقبوضہ مغربی کنارے کے متعدد فلسطینی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث خطے میں درجنوں فلسطینی کمیونٹیز کو مکمل طور پر مٹ جانے اور ختم ہو جانے کا شدید خطرہ لاحق ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی آباد کاروں کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں جن میں نہ صرف املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے بلکہ مقامی آبادی کو ہراساں بھی کیا جا رہا ہے تاکہ وہ اپنی آبائی زمینیں چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے اس بات پر روشنی ڈالی ہے کہ ان کارروائیوں کو مبینہ طور پر اسرائیلی ریاستی اداروں اور سکیورٹی فورسز کی خاموش یا بعض اوقات براہ راست پشت پناہی بھی حاصل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔
اس سنگین انسانی بحران کے پیش نظر ہیومن رائٹس واچ نے عالمی برادری، بالخصوص بااثر ممالک سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر عملی اقدامات اٹھائیں۔ تنظیم نے سفارش کی ہے کہ اس ناانصافی اور جبری نقل مکانی کے ذمہ داران کے خلاف سخت بین الاقوامی پابندیاں عائد کی جائیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جب تک یہ پالیسیاں تبدیل نہیں ہوتیں، اس وقت تک فراہم کی جانے والی فوجی امداد کو معطل رکھا جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مغربی کنارے میں جاری اس مبینہ جبری نقل مکانی اور آباد کاری کے عمل کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو اس سے خطے میں دیرپا امن کے تمام امکانات معدوم ہو جائیں گے اور پہلے سے کشیدہ صورتحال مزید خطرناک موڑ اختیار کر سکتی ہے۔ فلسطینی کمیونٹیز کا یہ انخلاء نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے مستقبل کے لیے بھی ایک بڑا المیہ بنتا جا रहा ہے۔