LIVE
Loading Breaking News...

ایران کا ڈونلڈ ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں پر شدید ردعمل

News Image
ایران نے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ملک پر دوبارہ معاشی دباؤ بڑھانے کے منصوبے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی یہ پرانی اور ناکام پالیسیاں ماضی کی طرح اب بھی کسی مثبت نتیجے تک نہیں پہنچ پائیں گی۔
تہران نے امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھانے کے حالیہ بیانات اور منصوبوں پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے معاشی پابندیوں اور دباؤ کے ہتھکنڈے ماضی میں بھی ناکام ہو چکے ہیں اور موجودہ دور میں بھی ان کا نتیجہ ناکامی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ ایرانی حکومت کے ترجمان اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ تہران ملکی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ کے آگے سر نہیں جھکائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا یہ نیا باب خطے کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچا رہا ہے، جہاں امریکہ ایک طرف دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے تو دوسری طرف تہران بھی اپنے دفاع اور معاشی خودمختاری کے لیے پرعزم دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ کی جانب سے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، جس سے نہ صرف دوطرفہ تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی توانائی اور تجارت کے شعبوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ تہران میں حکومتی ایوانوں سے جاری ہونے والے بیانات میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا ہے کہ ایرانی عوام تمام تر مشکلات کے باوجود اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ان نامساعد حالات کا مقابلہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔