Business
ہیلتھ انشورنس کا تضاد، کسٹمر تجربہ ناقص، نئی رپورٹ جاری
ہانسا ریسرچ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہیلتھ انشورنس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے تاہم کسٹمر سروس اور تجربے کا معیار اس تناسب سے بہتر نہیں ہو پایا۔ صارفین کو پالیسی کے دعوے اور ک্লেইمز کے حصول میں تاحال متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔
نئی دہلی: ہانسا ریسرچ کی جانب سے جاری کردہ ہیلتھ انشورنس کسٹمر ایکسپیریینس اسکور (CuES) 2026 کی دوسری ایڈیشن رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں ہیلتھ انشورنس کے شعبے میں ایک عجیب و غریب تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک طرف جہاں عوام میں ہیلتھ انشورنس پالیسیاں خریدنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، وہیں دوسری طرف انشورنس کمپنیوں کی جانب سے صارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات اور مجموعی کسٹمر کا تجربہ اس تیزی سے ترقی نہیں کر پا رہا۔ رپورٹ کے مطابق صارفین کو پالیسی کے حصول کے بعد مختلف مراحل پر کئی طرح کی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انشورنس انڈسٹری کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ صرف پالیسیاں فروخت کرنا کافی نہیں ہے بلکہ کسٹمر کو بروقت اور شفاف سروس فراہم کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ بہت سے صارفین نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ جب وہ ہسپتال میں علاج کے دوران ک্লেইم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو انہیں پیچیدہ کاغذی کارروائی اور طویل انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سے نہ صرف پالیسی ہولڈرز کو ذہنی کوفت ہوتی ہے بلکہ انشورنس کمپنیوں پر عوامی اعتماد بھی متاثر ہوتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں جہاں ہر چیز تیزی سے کام کر رہی ہے، انشورنس سیکٹر میں کسٹمر سپورٹ کے نظام کو مزید جدید بنانے کی ضرورت ہے۔ کمپنیوں کو اپنے دعووں کے نفاذ کے عمل کو آسان بنانا ہوگا تاکہ مشکل وقت میں مریض یا اس کے لواحقین کو مالی پریشانی کے ساتھ ساتھ انتظامی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ہانسا ریسرچ کی یہ رپورٹ انشورنس کمپنیوں کے لیے ایک چشم کشا حیثیت رکھتی ہے تاکہ وہ اپنی خامیوں کو دور کر کے صارفین کے تجربے کو بہتر بنائیں۔