Business
ٹیکنالوجی ایکسچینج ٹریڈڈ نوٹ اور مارکیٹ کے خطرات
یہ نیا مالیاتی پروڈکٹ مارکیٹ کی سب سے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا موقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم ماضی میں ایسے ہی مالیاتی آلات کو بڑی گراوٹ کے دوران اٹھاسی فیصد تک کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ٹیکنالوجی کے شعبے کی سب سے بڑی کمپنیوں اور فاتحین کے ساتھ چلنا سرمایہ کاروں کے لیے منافع کمانے کا سب سے آسان اور مؤثر ذریعہ رہا ہے۔ مارکیٹ کے اندر ٹیکنالوجی کے ان بڑے ناموں نے نہ صرف سرمایہ کاروں کو حیرت انگیز منافع دیا بلکہ مجموعی انڈسٹری کی سمت بھی طے کی۔ اب ایک خاص ایکسچینج ٹریڈڈ نوٹ (ETN) مارکیٹ میں خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے جو کہ انھی بڑی کامیابیوں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اور سرمایہ کاروں کو ایک ہی جگہ پر تمام بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق اس طرح کے مالیاتی آلات تیزی سے اوپر جانے والی مارکیٹ میں تو شاندار کارکردگی دکھاتے ہیں لیکن ان کے ساتھ منسلک خطرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی کے اعداد و شمار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جب بھی ٹیکنالوجی کے یہ بڑے ستارے ہچکولے کھاتے ہیں یا مارکیٹ میں کسی بڑی گراوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس نوعیت کے مالیاتی پروڈکٹس کو شدید نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ پچھلی بار جب مارکیٹ میں مندی کا رجحان دیکھا گیا تھا اور یہ بڑے اسٹاکس لڑھکے تھے تو اس پروڈکٹ یا اس جیسے دیگر آلات کو ستاسی فیصد (87%) تک کی بڑی گراوٹ اور نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اقتصادیات اور مالیاتی مشیران سرمایہ کاروں کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ کسی بھی نئی پروڈکٹ میں رقم لگانے سے پہلے مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ اور ہائی رسک فیکٹر کا مکمل ادراک کر لیں۔ موجودہ دور میں جہاں ٹیکنالوجی کے شعبے میں مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید رجحانات کی وجہ سے تیزی آ رہی ہے، وہیں یہ ضروری ہے کہ سرمایہ کار اپنے پورٹ فولیو کو متوازن رکھیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بڑے نقصان سے محفوظ رہا جا سکے۔