LIVE
Loading Breaking News...

بنگلہ دیش بھارت تجارتی تعلقات اور کاروباری ویزے

News Image
بنگلہ دیش نے بھارت کے ساتھ اقتصادی شراکت داری کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کاروباری ویزوں کے تیز رفتار اجراء پر زور دیا ہے۔ بنگلادیشی حکام کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات دونوں فریقین کے لیے یکساں طور پر مفید ہونے چاہئیں۔
بنگلہ دیش نے بھارت کے ساتھ اپنے معاشی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے بنگلادیشی شہریوں کے لیے کاروباری ویزوں کے اجراء میں تیزی لانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ ڈھاکا انتظامیہ کا ماننا ہے کہ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اقتصادی شراکت داری ایسی ہونی چاہیے جو دونوں فریقین کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہو۔ یہ مطالبات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے اور کاروباری رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر بات چیت جاری ہے۔ حکام کے مطابق، بنگلہ دیشی تاجروں اور سرمایہ کاروں کو اکثر بھارت کے سفر کے دوران ویزے کے حصول میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ بنگلادیشی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اور متعلقہ حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اگر کاروباری طبقے کو بغیر کسی دشواری کے سرحد پار آمدورفت کی سہولت فراہم کی جائے تو اس سے دوطرفہ تجارت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ کاروبار میں آسانی (ease of doing business) کے فروغ سے دونوں ممالک کے نجی شعبے ایک دوسرے کے قریب آئیں گے اور نئی اقتصادی راہیں کھلیں گی۔ بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان طویل زمینی سرحد اور تاریخی تجارتی تعلقات موجود ہیں، تاہم تجارتی توازن اور ریگولیٹری امور کو بہتر بنانا ہمیشہ سے ترجیح رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی طرف سے یہ تازہ ترین اپیل اس عزم کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ خطے میں اقتصادی ترقی اور باہمی تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس نوعیت کے مذاکرات سے توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل قریب میں ویزا کے قوانین کو مزید لچکدار بنایا جائے گا تاکہ کاروباری شخصیات بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے اپنے تجارتی امور انجام دے سکیں۔