LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ، پیمانے اور معیار پر زور

News Image
بھارت کا الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ سیکٹر ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ مرکزی وزیر اشونی ویشنو کا کہنا ہے کہ اب تیاری کی بجائے گہری گھریلو سپلائی چینز اور معیار پر توجہ مرکوز کی جائے۔
نئی دہلی: بھارت کا الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ سیکٹر ترقی کے ایک نئے اور اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جہاں توجہ صرف تیار شدہ مصنوعات کی اسمبلنگ سے ہٹ کر اجزاء، مواد اور کیپیٹل آلات سمیت گہری گھریلو سپلائی چینز کی ترقی پر مبذول کی جا رہی ہے۔ مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک نے الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے سفر کا کامیابی سے آغاز کر دیا ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ پیداوار کے پیمانے اور معیار کو عالمی سطح کا بنایا جائے۔ حکومتی عہدیداروں اور صنعت کے رہنماؤں کا ماننا ہے کہ ملک میں موبائل فونز اور دیگر الیکٹرانکس اشیاء کی پیداوار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، جس سے درآمدات پر انحصار کم کرنے میں مدد ملی ہے۔ تاہم، اصل چیلنج اب بھی اعلیٰ درجے کے پرزہ جات اور سیمی کنڈکٹرز کی مقامی سطح پر تیاری ہے۔ حکومت کی جانب سے مختلف پالیسیوں اور پیداوار سے منسلک مراعات یعنی پی ایل آئی اسکیمز کے ذریعے اس شعبے کو مسلسل فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ بین الاقوامی کمپنیاں بھارت میں سرمایہ کاری کرنے کے ساتھ ساتھ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے مراکز بھی قائم کریں۔ مرکزی وزیر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ معیار پر سمجھوتہ کیے بغیر پیداواری لاگت کو کم کرنا اور برآمدات کو بڑھانا حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ جب تک مقامی سپلائی چین مضبوط نہیں ہوتی، عالمی منڈی میں مکمل مسابقت پیدا کرنا مشکل ہوگا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر بھارت اپنے صنعتی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بناتا ہے اور ہنر مند افرادی قوت کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے، تو آنے والے برسوں میں یہ خطہ عالمی الیکٹرانکس سپلائی چین کا ایک اہم مرکز بن سکتا ہے۔