Business
ورچوئل انٹرویوز اور نوجوانوں کی ملازمتیں: برنہم کا اہم بیان
وزیر اعظم نے کہا ہے کہ آن لائن انٹرویوز کی وجہ سے نوجوانوں کے لیے اپنی قابلیت اور جذبے کا بھرپور اظہار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ورچوئل سسٹمز کے باعث ملازمت دینے والے افراد امیدواروں کی اصل شخصیت سے مکمل طور پر واقف نہیں ہو پاتے۔
نئی دہلی یا عالمی سطح پر روزگار کے بدلتے ہوئے رجحانات کے درمیان ایک اہم بحث شروع ہو گئی ہے۔ حالیہ بیانات کے مطابق، ورچوئل یا آن لائن انٹرویوز کے ذریعے نوجوان امیدوار اپنی شخصیت اور اصل صلاحیتوں کا وہ بھرپور اظہار نہیں کر پاتے جو آمنے سامنے بیٹھ کر ممکن ہوتا ہے۔ ماہرین اور رہنماؤں کا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل اسکرینز کے توسط سے ہونے والی بات چیت میں وہ گرمجوشی اور جذبہ غائب ہوتا ہے جو کسی بھی نوکری کے حصول کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
آج کے دور میں جب دنیا بھر میں کارپوریٹ سیکٹر اور کاروباری ادارے ہائبرڈ ماڈل یا مکمل طور پر آن لائن بھرتی کے عمل کو ترجیح دے رہے ہیں، اس کے اپنے مثبت اور منفی اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف آن لائن انٹرویوز وقت اور اخراجات کی بچت کا ذریعہ بنتے ہیں، وہیں دوسری طرف یہ انسانی جبلت اور بالمشافہ ملاقات کے فوائد کو محدود کر دیتے ہیں۔ ملازمت دینے والے افسران کے لیے یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ آیا امیدوار دفتری ماحول میں کس طرح ایڈجسٹ ہو گا اور اس کا اصل مزاج کیا ہے۔
نوجوان طبقے کو پیش آنے والی ان مشکلات کے پیش نظر، اب تعلیمی اداروں اور کیریئر کونسلرز کی طرف سے بھی یہ مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ طلباء کو ورچوئل انٹرویوز کے جدید تقاضوں کے مطابق تربیت فراہم کریں۔ اس کے باوجود، پالیسی سازوں کا یہ اصرار ہے کہ روایتی انٹرویوز کا متبادل مکمل طور پر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ انسانی تعلق اور باڈی لینگویج کا فہم صرف آمنے سامنے کی ملاقات میں ہی ممکن ہوتا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بحث کے بعد بھرتی کے عمل میں مزید تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔