LIVE
Loading Breaking News...

سکاٹ طالب علم کناف جین کا کم لاگت میڈیکل ڈرون - ٹیک خبریں

News Image
سکاٹ لینڈ کے ہونہار طالب علم کناف جین نے 'ایرو ایڈ' نامی کم لاگت خود مختار ڈرون تیار کیا ہے جو دور دراز اور کٹے ہوئے علاقوں میں طبی سامان اور ادویات پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس شاندار ایجاد پر انہیں برطانیہ کے باوقار 'ینگز انجینئر آف دی ایئر' کے اعزاز سے نوازا گیا ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا میں سکاٹ لینڈ کے ایک ہونہار طالب علم کناف جین نے شاندار کارنامہ سر انجام دیتے ہوئے طبی شعبے میں انقلاب برپا کرنے والا ایک خود مختار ڈرون تیار کیا ہے۔ اس کم لاگت ڈرون کا بنیادی مقصد دنیا کے ایسے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک ادویات اور طبی سامان کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے جہاں نقل و حمل کے روایتی ذرائع ناکافی یا انتہائی سست رفتار ثابت ہوتے ہیں۔ کناف جین کی اس منفرد اور فلاحی ایجاد کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں برطانیہ کے انتہائی باوقار اور معروف اعزاز 'یو کے ینگز انجینئر آف دی ایئر' سے سرفراز کیا گیا ہے۔ کناف جین کی جانب سے تیار کیے جانے والے اس جدید ڈرون کا نام 'ایرو ایڈ' رکھا گیا ہے۔ یہ ایک ورسٹائل وی ٹی او ایل کواڈپین ڈرون ہے جو عمودی طور پر اڑان بھرنے اور اترنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کی وجہ سے اسے استعمال کرنا انتہائی آسان اور محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کو خاص طور پر اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ کم لاگت ہونے کے باوجود انتہائی کھرے موسمی حالات میں بھی طویل فاصلہ طے کر کے بروقت ادویات ہدف تک پہنچا سکے۔ ماہرین کے نزدیک یہ منصوبہ صحت عامہ کے شعبے میں ایک سنگ میل ثابت ہو گا، بالخصوص ہنگامی حالات یا قدرتی آفات کے دوران جب بنیادی سڑکیں اور ذرائع آمدورفت تباہ ہو جاتے ہیں۔ اس ایوارڈ کے حصول پر تبصرہ کرتے ہوئے تکنیکی حلقوں اور سائنسی برادری نے کناف جین کی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کو بھرپور سراہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نوجوان نسل کی اس طرح کی ایجادات دنیا بھر میں انسانیت کے لیے درپیش بڑے چیلنجز کا حل تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔ 'ایرو ایڈ' پروجیکٹ کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نوجوانوں کو مناسب مواقع اور پلیٹ فارم فراہم کیے جائیں تو وہ انتہائی کم وسائل میں بھی ایسی ٹیکنالوجی تخلیق کر سکتے ہیں جو لاکھوں انسانی جانیں بچانے کا سبب بن سکتی ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اس اعزاز کے بعد کناف جین کے اس پراجیکٹ کو مزید وسعت ملے گی اور دنیا بھر کے مختلف طبی اداروں اور حکومتوں کی جانب سے اسے عملی طور پر اپنانے میں دلچسپی ظاہر کی جائے گی۔ دور دراز کے پسماندہ دیہات اور جنگلات یا پہاڑی علاقوں میں جہاں ایمبولینس یا دیگر گاڑیاں وقت پر نہیں پہنچ سکتیں، وہاں اس قسم کے خود مختار ڈرونز صحت کی سہولیات کی فراہمی کا نقشہ بدل کر رکھ دیں گے۔ کناف جین کی یہ کامیابی آنے والے دنوں میں نوجوان انجینئرز کے لیے مشعل راہ بنے گی۔