Technology
برطانوی پولیس کو لائیو فیشل ریکگنیشن میں ڈیٹا گورننس بہتر بنانے کی ہدایت
برطانیہ کے ڈیٹا پروٹیکشن واچ ڈاگ نے پولیس فورسز پر زور دیا ہے کہ وہ لائیو فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران بہترین طریقہ کار کے مطابق ڈیٹا گورننس کو بہتر بنائیں۔ یہ اقدام شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور ٹیکنالوجی کے شفاف استعمال کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
برطانیہ کے ڈیٹا پروٹیکشن کے نگران ادارے (آئی سی او) نے پولیس فورسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ لائیو فیشل ریکگنیشن (LFR) ٹیکنالوجی کے استعمال کے دوران اپنے ڈیٹا گورننس کے طریقہ کار کو مزید بہتر بنائیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ پولیس کو اس جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کو اپناتے وقت بین الاقوامی اور ملکی بہترین طریقہ کار کی سختی سے پیروی کرنی چاہیے تاکہ عام شہریوں کے بنیادی حقوق اور پرائیویسی کا مکمل تحفظ کیا جا سکے۔
آئی سی او کی ڈپٹی کمشنر ایملی کینی نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ فیشل ریکگنیشن جیسی طاقتور ٹیکنالوجی کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پولیس فورسز نے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ کیے تو اس سے عوامی اعتماد کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ نگران ادارے نے پولیس کو واضح کیا ہے کہ وہ ڈیٹا اکٹھا کرنے، محفوظ کرنے اور اسے پروسیس کرنے کے عمل میں مزید بہتری لائے۔
ماہرین کے مطابق لائیو فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی جرائم کی روک تھام اور مطلوبہ افراد کو تلاش کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے غلط استعمال یا ڈیٹا کے غیر قانونی انبار سے شہریوں کی ذاتی آزادی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ آئی سی او کی جانب سے یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب برطانیہ بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے اس ٹیکنالوجی کے نفاذ میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور سول سوسائٹی کی تنظیمیں اس پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔
نئے ہدایات نامے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پولیس فورسز کو ہر آپریشن سے پہلے اس کے نفاذ کے لیے مناسب جانچ پڑتال کرنی چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ کوئی بھی ڈیٹا بلاجواز محفوظ نہ رکھا جائے۔ آئی سی او نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ پولیس کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ قانون کی پاسداری کے ساتھ ساتھ شہریوں کے ڈیٹا کے حقوق کا بھی مکمل تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔