Business
سی ایف اوز کی اے آئی اور آٹومیشن پر توجہ - نیکسورا نیوز
ایک نئے سروے سے انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر کے سی ایف اوز کاروبار کی ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کو ترجیح دے رہے ہیں۔ روایتی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اب وہ سٹریٹجک پلاننگ اور جدید ٹیکنالوجی پر زیادہ توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
جدید کاروباری دنیا میں چیف فنانشل افسرز یعنی سی ایف اوز کی ترجیحات میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے اور وہ روایتی مالیاتی رپورٹنگ سے آگے بڑھ کر نئی ٹیکنالوجیز کو گلے لگا رہے ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق دنیا بھر کے سی ایف اوز کاروبار کی ترقی کے لیے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی اور آٹومیشن پر بھروسہ کر رہے ہیں اور آنے والے وقت میں معاشی ترقی کے حوالے سے انتہائی پرامید دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سروے اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح کارپوریٹ سیکٹر میں روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل ٹولز لے رہے ہیں۔
سروے کے نتائج سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ سی ایف اوز کی روایتی ذمہ داریاں جیسے کہ صرف مالیاتی رپورٹنگ اور آپریشنل مینجمنٹ اب تک محدود نہیں رہیں۔ اس کے بجائے سٹریٹجک پلاننگ، بزنس پارٹنرشپ اور ٹیکنالوجی کا استعمال اب ان کی ترجیحی فہرست میں سب سے اوپر آچکا ہے۔ کاروباری ادارے مسابقت میں آگے رہنے کے لیے ایسے مالیاتی رہنماؤں پر انحصار کر رہے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کو بخوبی سمجھتے ہوں اور کارکردگی کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی اور آٹومیشن کے نفاذ سے نہ صرف کاروباری اخراجات میں کمی آتی ہے بلکہ فیصلوں کی رفتار اور درستگی میں بھی نمایاں بہتری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سی ایف اوز اب تکنیکی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ سروے میں یہ بات بھی زور دے کر کہی گئی ہے کہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے روایتی مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنا ہوگا اور جدید رجحانات کو اپنانا ناگزیر ہوچکا ہے۔
مجموعی طور پر، یہ سروے کاروباری دنیا میں ایک نئے دور کے آغاز کی نشان دہی کرتا ہے جہاں ٹیکنالوجی اور مالیاتی قیادت مل کر ترقی کے نئے راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ سی ایف اوز کا یہ مثبت رویہ نہ صرف ان کے اپنے اداروں کے لیے بلکہ مجموعی طور پر معاشی استحکام اور ترقی کے لیے بھی ایک خوش آئند قدم سمجھا جا رہا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس رجحان کے مزید وسیع ہونے کی توقع کی جارہی ہے۔