LIVE
Loading Breaking News...

ساؤدی عرب کا نیوم میگا سٹی منصوبہ اور اس کی تبدیل شدہ حکمت عملی

News Image
ساؤدی عرب نے اپنے انتہائی مہتواکانکشی اور مستقبل کے شہر نیوم کے منصوبے کے پیمانے کو مالیاتی حقائق کے پیش نظر محدود کر دیا ہے۔ پبلک انویسٹمنٹ فنڈ نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ اب تخیلاتی منصوبوں کے بجائے تجارتی منافع کو ترجیح دی جائے گی۔
ساؤدی عرب کا انتہائی پرامید اور انقلابی میگا سٹی منصوبہ 'نیوم' اب مالیاتی حقائق اور معاشی زمینی حقائق کے بوجھ تلے اپنی سمت تبدیل کرنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ شروع میں اس پراجیکٹ کو ایک ایسے مستقبل کے شہر کے طور پر پیش کیا گیا تھا جو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور خوابوں جیسی عمارتوں پر مشتمل ہوگا۔ تاہم، حالیہ اطلاعات کے مطابق ساؤدی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) نے اس کے تخیلاتی اور وسیع و عریض پیمانے کو کافی حد تک سمیٹ لیا ہے کیونکہ فنڈنگ اور اخراجات کا توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا اور وال اسٹریٹ جریدے کی رپورٹس کے مطابق نیوم جیسے بڑے خواب کو حقیقت کا جامہ پہنانے میں درپیش مالیاتی مشکلات نے حکمرانوں کو اس پر نظرثانی کرنے پر مجبور کیا۔ اب نئی حکمت عملی کے تحت اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ پراجیکٹ کے تمام حصوں میں تجارتی منافع کو اولین ترجیح دی جائے تاکہ ملکی معیشت پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نیوم کا بنیادی تصور ختم نہیں ہوا بلکہ اسے زیادہ عملی اور حقیقت پسندانہ شکل دی جا رہی ہے جس سے آنے والے برسوں میں سرمایہ کاری کے مؤثر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ اس تبدیلی کے باوجود، ساؤدی ویژن 2030 کے تحت ملک کی معیشت کو تیل پر انحصار سے آزاد کرنے کے عزم کو جاری رکھا گیا ہے، البتہ منصوبوں کی تکمیل کی رفتار اور پیمانے کو اب معاشی حالات کے تابع کر دیا گیا ہے۔