Sports
ماؤریہو کا ریئل میڈرد میں دوسرا دور اور بارسلونا سے مقابلہ
مشہور فٹ بال مینیجر ژوزے ماؤریہو نے ریئل میڈرد میں اپنے دوسرے دور کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ ان کی آمد کے بعد کلب کے حریف بارسلونا کے خلاف مقابلوں پر خصوصی توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔
فٹ بال کی دنیا کے معروف اور متنازع مینیجر ژوزے ماؤریہو نے ہسپانوی کلب ریئل میڈرد میں اپنے دوسرے دور کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ کلب کی انتظامیہ اور شائقین کی جانب سے ان کے اس نئے دور کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے، کیونکہ ٹیم کو ایک بار پھر کامیابیوں کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تجربہ کار قیادت کی ضرورت تھی۔ ماؤریہو کی واپسی کے بعد سے ہی کھیلوں کے حلقوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو چکی ہیں اور ہر طرف یہی بحث جاری ہے کہ آیا وہ ایک بار پھر کلب کو اس کے روایتی حریفوں کے مقابلے میں سب سے اوپر لے جا سکیں گے۔
ذرائع کے مطابق ماؤریہو کے اس نئے سفر کا سب سے بڑا ہدف روایتی حریف بارسلونا کا مقابلہ کرنا اور ہسپانوی لیگ میں اپنی برتری قائم کرنا ہے۔ ریئل میڈرد کے ساتھ ان کا پہلا دور انتہائی یادگار رہا تھا جس دوران انہوں نے کئی اہم ٹائٹلز اپنے نام کیے تھے، تاہم اس بار چیلنجز بالکل مختلف اور زیادہ سخت ہیں۔ بارسلونا کی ٹیم بھی اس وقت بہترین فارم میں ہے اور گھریلو میدان سے لے کر یورپی مقابلوں تک ہر جگہ اپنی دھاک بٹھائے ہوئے ہے۔ ایسے میں ماؤریہو کے لیے بارسلونا کی اس مضبوط دیوار کو گرانا ایک انتہائی کٹھن مرحلہ ہوگا۔
کلب کے تربیتی کیمپ میں کھلاڑیوں کا جوش و خروش دیدنی ہے اور وہ نئے مینیجر کے ماتحت تربیت حاصل کرنے کے لیے پرجوش ہیں۔ ماؤریہو نے اپنے روایتی جارحانہ اندازِ فکر کو اپناتے ہوئے ٹیم کی دفاعی اور جوابی حملوں کی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے پر کام شروع کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر ماؤریہو اپنی حکمت عملی میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو آنے والے سیزن میں ریئل میڈرد اور بارسلونا کے مابین ہونے والے 'ال کلاسিকো' مقابلے تاریخ کے سب سے سنسنی خیز مقابلے بن سکتے ہیں۔
مداحوں اور کھیلوں کے پنڈتوں کی نظریں اب آئندہ آنے والے میچوں پر ٹکی ہوئی ہیں جہاں ماؤریہو کو اپنی اہلیت کا لوہا منوانا ہوگا۔ ریئل میڈرد کی مینجمنٹ نے انہیں مکمل اختیارات دے دیے ہیں تاکہ وہ ٹیم میں اپنی مرضی کی تبدیلیاں کر سکیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ماؤریہو کا یہ دوسرا دور ریئل میڈرد کے لیے ماضی کی طرح کامیابیوں کا استعارہ بنتا ہے یا بارسلونا کے سامنے ایک بار پھر انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔