LIVE
Loading Breaking News...

ایشیائی فٹ بال صدر کا فیفا ورلڈ کپ منصوبے پر اعتراض

News Image
ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن کے صدر نے فیفا کے ورلڈ کپ حصص فروخت کرنے کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے اسے براعظمی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے کھیل کی بنیادی ساخت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے صدر نے بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن (فیفا) کی جانب سے ورلڈ کپ کے حصص فروخت کرنے کے مجوزہ منصوبے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ فٹ بال کے کھیل کے روایتی ڈھانچے اور براعظمی بنیادوں کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ذرائع کے مطابق فیفا کی جانب سے ورلڈ کپ کے حوالے سے کچھ نئے مالیاتی اور انتظامی ماڈلز پر غور کیا جا رہا ہے جس کا مقصد مبینہ طور پر آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔ تاہم اس اقدام نے کھیلوں کی علاقائی تنظیموں بالخصوص ایشیائی فٹ بال کنفیڈریشن میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اے ایف سی کے صدر نے واضح کیا ہے کہ اس طرح کے فیصلے تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز اور براعظمی فیڈریشنز کی مشاورت کے بغیر نہیں کیے جانے چاہئیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ فٹ بال صرف ایک تجارتی مصنوع نہیں ہے بلکہ یہ دنیا بھر کے کروڑوں شائقین کے جذبات اور ثقافت کا عکاس ہے۔ اگر عالمی سطح پر ایسے فیصلے کیے جائیں گے جو براعظمی ڈھانچے کو کمزور کریں تو اس کا طویل المدتی نقصان کھیل کے معیار اور اس کی مقبولیت پر پڑے گا۔ انہوں نے فیفا پر زور دیا کہ وہ اپنے اس منصوبے پر نظر ثانی کرے اور علاقائی اداروں کے حقوق کا احترام یقینی بنائے۔ یہ تنازعہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا ہے جب دنیا بھر کی مختلف فٹ بال ایسوسی ایشنز نے اس معاملے پر اپنے تحفظات کا اظہار شروع کر دیا ہے۔ اے ایف سی کا مؤقف ہے کہ فٹ بال کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے تمام اکائیوں کے درمیان باہمی تعاون اور شفافیت کا ہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ کھیل کی روح کو برقرار رکھا جا سکے اور کسی ایک ادارے کی اجارہ داری قائم نہ ہو۔