Technology
آئی بی ایم کی کوانٹم کمپیوٹنگ میں بڑی کامیابی اور نیا سنگ میل
آئی بی ایم نے اپنے پہلے ماڈیولر کرائیوجینک فریجز کو آپس میں منسلک کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ یہ پیش رفت 2029 تک دنیا کا پہلا فالٹ ٹالرینٹ کوانٹم کمپیوٹر تیار کرنے کے ہدف کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
ٹیکنالوجی کی دنیا کی معروف ترین کمپنی آئی بی ایم کارپوریشن نے 2029 تک دنیا کا پہلا فالٹ ٹالرینٹ کوانٹم کمپیوٹر بنانے کے اپنے ہدف کی طرف ایک اور نمایاں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق، آئی بی ایم نے اپنے پہلے ماڈیولر کرائیوجینک فریجز کے جوڑے کو کامیابی کے ساتھ آپس میں لنک اور کول ڈاؤن کر لیا ہے، جو کہ اسکیل ایبل کوانٹم سسٹمز کی طرف ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کے شعبے میں سسٹمز کو بڑا اور قابلِ اعتماد بنانا ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے، اور اس نئی کامیابی سے اس سمت میں حائل بڑی رکاوٹیں دور ہو سکتی ہیں۔ آئی بی ایم کا یہ نیا طریقہ کار انتہائی قابلِ پیمائش اور جدید کرائیوجینک آرکیٹیکچر پر مبنی ہے، جو مستقبل میں کوانٹم پروسیسرز کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے اب مختلف کوانٹم ماڈیولز کو ایک دوسرے کے ساتھ بلا رکاوٹ منسلک کیا جا سکے گا، جس سے پیچیدہ سائنسی مسائل کو حل کرنے کے لیے درکار پروسیسنگ پاور میں غیر معمولی اضافہ ہوگا۔ کمپنی کے ماہرین اس کامیابی کو کوانٹم ہارڈویئر ڈیزائن کی تاریخ میں ایک نیا موڑ قرار دے رہے ہیں۔ آئی بی ایم کو توقع ہے کہ آنے والے برسوں میں اس ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ایسے کوانٹم سسٹمز مارکیٹ میں لائے جائیں گے جو روایتی سپر کمپیوٹرز کی پہنچ سے باہر کے مسائل کو آسانی سے حل کر سکیں گے۔ اس پیش رفت کے بعد دنیا بھر کے محققین اور تکنیکی ماہرین کی توجہ آئی بی ایم کے اس منصوبے پر مرکوز ہو گئی ہے، اور اسے مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت اور سائنسی تحقیق کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیا جا رہا ہے۔