Technology
ایملی ہارٹ اے آئی انفلونسر کا نیا باب اور تخلیق کار کی کہانی
مقبول اے آئی انفلونسر ایملی ہارٹ کے تخلیق کار سام کو اپنے ہی کردار کے مداحوں کی جانب سے نامناسب پیغامات موصول ہونے پر شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حیرت انگیز ڈیجیٹل کہانی نے آن لائن دنیا میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کے اخلاقی پہلوؤں پر ایک نئی بحث چھڑ دی ہے۔
ڈیجیٹل دنیا میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال نے جہاں ایک طرف بے پناہ سہولیات فراہم کی ہیں، وہیں دوسری طرف اس کے منفی اور عجیب و غریب پہلو بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ ایملی ہارٹ، جو کہ ایک بظاہر دائیں بازو کی نظریات کی حامل اور بکینی میں ملبوس اے آئی انفلونسر کے طور پر جانی جاتی ہے، نے آن لائن بالخصوص دائیں بازو کے مداحوں کے دلوں میں ایک خاص جگہ بنا لی تھی۔ اس اے آئی ماڈل کی مقبولیت دن بدن بڑھ رہی تھی اور لوگ اس کی ہر پوسٹ پر انتہائی پرجوش انداز میں تبصرے کر رہے تھے۔
تاہم اس کہانی کا دوسرا رخ کافی پریشان کن ہے۔ ایملی ہارٹ کے خالق، جن کا نام سام ہے، اس پوری صورتحال سے شدید بیزار ہو چکے تھے۔ سام کو ان کی تخلیق کے مداحوں کی جانب سے ایسے نامناسب پیغامات اور غیر مانگی گئی انتہائی ذاتی نوعیت کی تصاویر موصول ہو رہی تھیں جن نے انہیں ذہنی کوفت میں مبتلا کر دیا۔ ایک مصنوعی ذہانت کے کردار کے ساتھ اس حد تک جذباتی اور غیر معقول وابستگی نے سوشل میڈیا کے اس انوکھے دور پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے کہ لوگ کیسے ایک ڈیجیٹل کوڈ کو حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں۔
اس واقعے نے اے آئی انفلونسرز کی مارکیٹنگ اور اس کے معاشرتی اثرات پر ایک بار پھر بحث چھیڑ دی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے ٹیکنالوجی ترقی کرتی جا رہی ہے اور اے آئی ماڈلز زیادہ حقیقت پسندانہ ہوتے جا رہے ہیں، ویسے ہی انسانی نفسیات اور ٹیکنالوجی کے درمیان کی لکیر دھندلا رہی ہے۔ سام کا یہ تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں شہرت اور توجہ حاصل کرنا جتنا آسان ہے، اس کے پاتال میں چھپے منفی پہلوؤں کا سامنا کرنا اتنا ہی مشکل ہو سکتا ہے۔